اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 472 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 472

472 نبی کریم کا حسن معاشرت بحیثیت دوست و پڑوسی اسوہ انسان کامل ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد کے بارہ میں فرمایا کہ میں ان لوگوں کے حق میں گواہی دونگا۔حضرت ابوبکر صدیق نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کیا ہم ان کے بھائی نہیں ؟ جیسے انہوں نے اسلام قبول کیا ہم نے کیا۔جیسے انہوں نے جہاد کیا ہم نے کیا۔رسول اللہ نے فرمایا ہاں! لیکن مجھے کیا معلوم تم لوگ میرے بعد کیا کرو گے؟ اس پر حضرت ابوبکر روئے اور بہت روئے۔پھر کہنے لگے کیا ہم آپ کے بعد تنہا رہ جائیں گے؟ ( موطا )19 حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ شہدائے احد کی شہادت کے آٹھ سال بعد ( یعنی 11ھ میں اپنی وفات کے سال ) رسول کریم نے احد کے شہیدوں پر جا کر دعا کی۔صحابہ کہتے ہیں ایسے لگتا تھا جیسے آپ زندوں کے ساتھ مردوں کو بھی الوداع کہہ رہے ہیں۔دوستوں کے لئے غیرت فتح مکہ کے سفر میں مرالظہران میں پڑاؤ کے دوران حضرت عبداللہ بن مسعود اپنے چھریرے بدن اور پیلی ٹانگوں کی وجہ سے پھرتی سے درختوں پر چڑھ جاتے اور کالی کالی پیلو اتار کر لاتے۔بعض صحابہ ان کی دبلی پتلی ٹانگوں کا مذاق اڑانے لگے۔آپ نے دیکھا کہ مذاق استہزاء کا رنگ اختیار نہ کر جائے۔تب اپنے اس صحابی کے لئے آپ کو غیرت آئی۔فرمایا اس کی سوکھی ہوئی ٹانگوں کو حقارت سے مت دیکھو۔اللہ کے نزدیک یہ بہت وزنی ہیں۔“ ( ابن سعد ) 20 دیرینہ ساتھی کے والد کا لحاظ فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صحن کعبہ میں تشریف فرما تھے کہ حضرت ابوبکر اپنے بوڑھے باپ ابو قحافہ کو ہمراہ لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ان کی بیعت کے لئے حاضر ہوئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے رفقاء سے حسن سلوک اور کمال بجز و انکسار ملاحظہ ہو۔اپنے دیرہ بینہ جانی رفیق حضرت ابو بکڑ کے والد جوا بھی مسلمان نہیں ہوئے تھے کود یکھ کر فرمانے لگے۔اپنے بزرگ اور بوڑھے باپ کو آپ گھر میں ہی رہنے دیتے اور مجھے موقع دیتے کہ میں خودان کی خدمت میں حاضر ہوتا۔حضرت ابو بکر اس شفقت پر وارے جاتے ہیں کمال ادب سے عرض کیا اے خدا کے رسول ! ان کا زیادہ حق بنتا تھا کہ چل کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوں بجائے اس کے کہ حضور مبنفس نفیس تشریف لے جاتے۔نبی کریم ﷺ نے اپنے سامنے بٹھا کرا ابو قحافہ کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا کہ اب اسلام قبول کر لیجئے۔ان کا دل تو محبت بھری باتوں سے رسول اللہ پہلے ہی جیت چکے تھے۔ابو قحافہ کو انکار کا یارا کہاں تھا انہوں نے فوراً سر تسلیم خم کیا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم پھر ان سے دل لگی کی باتیں کرنے لگے ان کے بالوں میں سفیدی دیکھی تو فر مایا کہ ” خضاب وغیرہ لگا کر ان کے بالوں کا رنگ تو بدلو۔“ ( ابن ھشام ) 21 رسول کریم کو قدیم دوستانہ تعلقات کا بہت پاس ہوتا تھا۔اور ایک عجب وفا اور پاس عہد کے ساتھ ان کو زندہ رکھتے تھے۔آپ کسی کی نیکی فراموش نہ کرتے تھے۔