اسوہء انسانِ کامل — Page 471
471 نبی کریم کا حسن معاشرت بحیثیت دوست و پڑوسی اسوہ انسان کامل حضرت ابو بکر سے اظہار محبت اور دوستی کا ایک اور واقعہ حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت اور آپ کے ساتھی ایک تالاب میں تیر رہے تھے تو آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص تیر کر اپنے ساتھی کی طرف جائے (یعنی ایک اس کنارے سے تیرتا جائے اور دوسرا اس کنارے سے تیرتا ہوا آئے) چنانچہ ہرشخص اپنے اپنے ساتھی کی طرف تیر کر چلا ( یعنی سب کو ایک ایک ساتھی مل گیا) صرف آنحضرت اور حضرت ابوبکر صدیق رہ گئے۔چنانچہ رسول اللہ حضرت ابوبکر کی طرف تیرے یہاں تک کہ آپ نے (ان کے پاس پہنچ کر انہیں گلے لگایا اور فرمایا " میںاور میرا ساتھی۔ایک روایت میں ہے کہ میں اپنے ساتھی کی طرف میں اپنے ساتھی کی طرف“۔(حلبیہ )15 بلال اور زید بن حارثہ جو مکی دور ابتلاء کے ساتھی تھے اور حضرت ابوبکر جو سفر ہجرت کے آڑے وقت میں ہمسفر تھے، فتح مکہ کی عظیم الشان فتح کے وقت ان ساتھیوں کو رسول کریم نے فراموش نہیں کیا۔اس روز آپ کی شاہی سواری کے دا ئیں ابو بکر تھے تو بائیں بلال اور زیڈ اگر چہ فوت ہو چکے تھے مگر اس کے بیٹے اسامہ کو آپ نے اپنی سواری کے پیچھے پٹھایا ہوا تھا۔اس طرح وفاؤں کے جلو میں یہ قافلہ مکے میں داخل ہوا۔( بخاری )16 غزوہ احزاب کے موقع پر خندق کی کھدائی ہورہی تھی اور نبی کریم اپنے انصار اور مہاجرین دوستوں کے ساتھ مل کر یہ دعائیہ نغمے پڑھ رہے تھے۔اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ الَّا خَيْرَ الآخِرَهُ فَاغْفِرِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهُ اے اللہ ! اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے۔پس تو انصار اور مہاجرین کو بخش دے۔رسول کریم انصار مدینہ کی قربانیوں کی بہت قدر فرماتے تھے۔ایک دفعہ مدینہ میں انصار کی عورتیں اور بچے کسی شادی کی تقریب سے واپس لوٹ رہے تھے کہ رسول کریم نے دیکھ لیا۔آپ ان کے سامنے جا کر کھڑے ہو گئے اور دودفعہ وفور جذبات میں فرمایا " خدا کی قسم ! تم مجھے سب لوگوں سے زیادہ پیارے ہو۔( بخاری ) 17 رسول کریم کو اپنے خدام سے خاص محبت تھی۔اور ان کی خدمات کا خاص احترام آپ کے دل میں ہوتا تھا۔اس سلسلہ میں شہدائے احد کی مثال قابل ذکر ہے۔جن سے حضور کو گہری دلی محبت تھی۔چنانچہ اپنی زندگی کی شاندار فتح غزوہ خیبر سے واپس آتے ہوئے جب احد مقام پر پہنچے تو وادی احد کے شہید آپ کو یاد آئے۔جن کے خون سے یہ وادی لالہ رنگ ہوئی تھی۔اور جن کو ان کے خونوں سمیت احد کے دامن میں دفن کیا گیا تھا۔آپ وادی احد سے گزرتے ہوئے فرمانے لگے۔احد کو ہم سے محبت ہے اور ہمیں احد سے مراد اہل احد سے تھی۔ان مسکینوں سے جو دا من احد میں زیر خاک تھے اور ان زندوں سے جو وادی مدینہ میں آباد تھے۔( بخاری ) 18