اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 473 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 473

اسوہ انسان کامل 473 نبی کریم کا حسن معاشرت بحیثیت دوست و پڑوسی نجاشی شاہ حبشہ کا وفد آیا تو آنحضرت اُن کی خدمت کے لئے خود کمر بستہ ہو گئے۔صحابہ نے عرض کیا ہم آپ کی طرف سے نمائندگی کر دیں گے۔آپ نے فرمایا انہوں نے ہمارے دوستوں کی عزت کی تھی اور میرا دل کرتا ہے کہ خود ان کی خدمت کر کے ان کا بدلہ چکاؤں۔( بیہقی )22 حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد بھی ان کی سہیلیوں کو تحائف بھجوا کر انہیں یا ور کھتے۔( بخاری ) 23 حضرت عائشہ بیان فرماتی تھیں کہ ایک دفعہ ایک بڑھیا نبی کریم کے پاس آئی۔حضور کی باری میرے ہاں تھی۔آپ نے اس کا تعارف پوچھا وہ کہنے لگی۔میں جشامہ ہوں مزنی قبیلہ سے میرا تعلق ہے۔آپ نے فرمایا ہاں ہاں تم تو مزنی قبیلہ کی بہت اچھی عورت ہو۔تم کیسی ہو؟ احوال کیا ہیں؟ ہمارے مدینہ آجانے کے بعد تم پر کیا گزری؟ وہ کہنے لگی میرے ماں باپ آپ پر قربان اے اللہ کے رسول ! ہم خیریت سے ہیں۔حضور اس سے نہایت شفقت سے باتیں کرتے رہے۔جب وہ چلی گئی تو میں نے تعجب سے کہا یا رسول اللہ! ایک بڑھیا کے لئے اتنا تپاک اور التفات؟ فرمانے لگئے ”ہاں! یہ عورت خدیجہ کی زندگی میں ہمارے گھر آتی تھی اور تعلق نبھانا بھی ایمان کا حصہ ہے۔“ (حاکم) 24 فتح حسین کے بعد ایک لڑکی نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ ! میں آپ کی رضاعی بہن شیماء ہوں۔رسول کریم نے کمال محبت سے اپنی چادر اس کے لئے بچھا دی اور فرمایا جو چاہے مانگو اور جس کی سفارش کر و قبول کی جائے گی۔(بیہقی ) 25 حضرت سائب بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن حضرت عثمان مجھے ہمراہ لے کر رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تعارف میں کچھ تعریفی کلمات کہنے لگے تو آپ نے فرمایا سائب کے بارے میں تم بے شک مجھے کچھ زیادہ نہ بتاؤ۔میں اسے زمانہ جاہلیت سے جانتا ہوں کہ یہ میرا دوست رہا ہے۔( احمد ) 26 فتح مکہ اور انصار مدینہ سے وفا جب مکہ کی عظیم الشان فتح سے خدا کا رسول اور جماعت مومنین خوش ہورہے تھے عین اس وقت ایک عجیب جذباتی نظارہ دیکھنے میں آیا۔ہوا یوں کہ کچھ عشاق رسول انصار مدینہ کے دلوں میں یہ وسو سے جنم لے رہے تھے۔ان کے دل اس وہم سے بیٹھے جارہے تھے کہ ہمارے آقا مکہ کی فتح کے بعد کہیں اپنے اس وطن مالوف میں ہی مستقل قیام نہ فرمالیں۔یہ وساوس قلب و دماغ سے نکل کر زبانوں پر آنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ سے جس محبت و رأفت کا سلوک فرمایا ہے اس سے وطن کے ساتھ آپ کی محبت بھی ظاہر ہے۔اگر یہ محبت غالب آگئی اور آپ کیہیں رہ گئے تو ہمارا کیا ٹھکانہ ہوگا۔کہتے ہیں عشق است ہزار بد گمانی۔دراصل یہ وسو سے انصار مدینہ کے عشق صادق کے آئینہ دار تھے۔کمزوری اور مظلومی کے زمانہ کے ان ساتھیوں کے ٹوٹے دلوں کی ڈھارس بھی ضروری تھی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی انصار کی ان قلبی کیفیات سے اطلاع فرمائی۔آپ نے انصار مد بینہ کا ایک الگ اجتماع کوہ صفا پر طلب فرمایا اور ان سے مخاطب ہوئے کہ کیا تم لوگ یہ باتیں کر رہے ہو کہ محمد پر اپنے وطن اور قبیلے کی محبت