اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 58 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 58

58 شمائل نبوی می اسوہ انسان کامل نہ کرتے اور جب آپ کے سامنے کوئی ایک بات کر رہا ہوتا تو باقی لوگ اس کی بات خاموشی سے سنتے یہاں تک کہ وہ بات پوری کر لے۔آپ اپنے صحابہ کی باتوں میں دلچسپی لیتے۔ان کی مذاق کی باتوں میں ان کا ساتھ دیتے اور تعجب کا موقع ہوتا تو تعجب فرماتے کبھی کوئی اجنبی مسافر آجاتا تو اس کی گفتگو یا سوال نہایت توجہ سے سماعت فرماتے۔( عیاض )85 86 صحابہ مہمانوں کو حضور کی خدمت میں بڑے شوق سے لایا کرتے تھے۔وہ خود از راہ ادب آپ سے اکثر سوال نہ کرتے تھے بلکہ اس انتظار میں رہتے کہ کوئی بد و آ کر مسئلہ پوچھے تو ہم بھی سنیں۔( بخاری ) 6 آپ کی ہدایت تھی کہ اگر کوئی ضرورت مند دیکھو تو اسے کچھ دے دو ورنہ اس کی مدد کے لئے تحریک کر دیا کرو۔فرماتے تھے کہ نیک سفارش کا بھی اجر ہوتا ہے۔مبالغہ آمیز تعریف وستائش آپ کو قطعا پسند نہ تھی۔سوائے اس کے کہ جائز حدود کے اندر ہو۔( بخاری )87 آپ کسی کی قطع کلامی پسند نہ فرماتے تھے سوائے اس کے کہ وہ اپنی حد سے تجاوز کرے۔ایسی صورت میں اسے روک دیتے تھے یا خوداس مجلس سے اُٹھ کھڑے ہوتے تھے۔متفرق معمولات آپ ہفتہ کے روز بھی پیدل اور بھی سواری پر مسجد قبا جایا کرتے تھے جو بنی عمرو بن عوف کے محلہ میں مدینہ سے چند میل دور تھی۔یوں ہفتہ وار تفریح بھی ہو جاتی اور اس محلہ کے صحابہ سے ملاقات بھی۔حضور کو سبزے اور جاری پانی کو دیکھنا بہت پسند تھا۔(احمد، کنز 88 ) جمعہ کا دن تو جمعہ کی تیاری اور اس کی مصروفیات میں گزرتا۔کوئی مہم بھجوانا ہوتی تو بالعموم جمعرات کو دن کے پہلے حصہ میں بھجواتے۔(احمد 89) اور تین یا اس سے زائد افراد پر امیر مقررفرماتے۔(بخاری) 90 نبی کریم عیدین کے موقع پر قربانیوں اور عبادتوں کی قبولیت کی دعا کرنا پسند کرتے تھے۔حضرت واثلہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول کریم کو عید کے دن ملا۔اور عرض کیا کہ اللہ ہم سے اور آپ سے (عبادات وغیرہ) قبول فرمائے۔نبی کریم نے فرمایا ہاں ! تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا ومِنْكَ یعنی اللہ ہم سے اور آپ سے قبول فرمائے۔(ابن حجر ) 91 ہر کام میں دائیں پہلو کو ترجیح دیتے۔جوتا پہننے کنگھی کرنے ، وضو کر نے ،نہانے وغیرہ میں یہی معمول تھا۔دایاں ہاتھ کھانے پینے ، مصافحہ کرنے کے لئے استعمال فرماتے۔( بخاری )92 دیگر طہارت وغیرہ کے کام بائیں ہاتھ سے کرتے۔دائیں پہلو پر سوتے۔جوتا پہنے میں پہلے دایاں پاؤں پہنتے اور اتارتے وقت پہلے بایاں اتارتے۔(مسلم) 93