اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 57 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 57

اسوہ انسان کامل 57 شمائل نبوی میں بہتر تحفہ عطا فرماتے تھے۔(احمد) 75 تحفہ میں زمزم کا پانی دینا پسند فرماتے تھے۔صدقہ کا مال اپنی ذات کے لئے نہ لیتے تھے۔انصار کے گھروں میں ملاقات کے لئے تشریف لے جاتے۔(احمد 76 ) ان کے بچوں کے سروں پر ہاتھ پھیرتے۔پیار دیتے اور دعا کرتے۔بعض بچوں کی پیدائش پر کھجور کی گھٹی بھی دی۔( بخاری ) 77 گھر میں بیک وقت نو بیویاں رہیں ہمیشہ ان میں عدل فرماتے ، ان میں سے کسی کو سفر پر ہمراہ لے جانے کے لئے فیصلہ قرعہ اندازی سے فرماتے۔(احمد 78 ) مدینہ سے رخصت ہوتے وقت سب سے آخر میں اپنی لختِ جگر حضرت فاطمہ سے مل کر جاتے اور واپسی پر مسجد نبوی میں دورکعت نماز ادا کرنے کے بعد سب سے پہلے حضرت فاطمہ سے ہی آکر ملتے۔(احمد 79) سفر سے واپس تشریف لاتے تو خاندان کے بچے اور اہل مدینہ آپ کا استقبال مدینہ سے باہر جا کر کرتے۔( بخاری )80 آپ عام مسلمانوں کی دعوت طعام بلا تفریق قبول فرماتے۔( بخاری (81) اپنے صحابہ کے جنازہ اور تدفین میں شامل ہوتے تھے۔سوائے اس کے کہ کوئی شخص مقروض ہو تو اس کے بارہ میں فرماتے تھے کہ اس کا جنازہ خود پڑھ لو۔( بخاری )82 صحابہ کے ساتھ قومی کاموں میں برابر کے شریک ہوتے۔مسجد نبوی کی تعمیر میں ان کے ساتھ مل کر اینٹیں اٹھائیں تو غزوہ احزاب کے موقع پر خندق کی کھدائی میں حصہ لیا اور مٹی باہر نکالی۔( بخاری )83 آپ خادموں سے بہت حسن سلوک فرماتے تھے۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ میں نے دس سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے کبھی آپ نے مجھے اُف تک نہیں فرمایا کبھی کسی بات پر نہیں ٹو کا۔( بخاری )84 حضرت علی نے امام حسین کے اس سوال پر کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے ساتھیوں کے ساتھ سلوک کیسا ہوتا تھا۔حضور کی معاشرت کا دلآویز نقشہ یوں کھینچا کہ:۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ مسکراتے تھے۔عمدہ اخلاق والے اور نرم خو تھے۔ترش رو تھے نہ تندخو، نہ کوئی فحش کلمہ زبان پر لانے والے نہ چیخ کر بولنے والے۔عیب چھیں تھے نہ بخیل۔جو بات ناگوار ہوتی اس کی طرف توجہ ہی نہ فرماتے نہ ہی اس کے بارے میں کوئی جواب دیتے۔آپ نے اپنے آپ کو تین باتوں سے کلیتہ آزاد کر لیا ہوا تھا۔جھگڑے، تکبر اور لایعنی وفضول باتوں سے اور تین باتوں میں لوگوں کو آزاد چھوڑ رکھا تھا یعنی آپ کسی کی مذمت نہ کرتے تھے، کسی کی غیبت نہ کرتے تھے اور کسی کی پردہ دری نہ چاہتے تھے۔آپ صرف اس امر کے بارے میں گفتگو کرتے جس میں ثواب کی امید ہو۔جب آپ خاموش ہو جاتے تو لوگ بات کر لیتے تھے مگر آپ کے سامنے ایک دوسرے سے باتیں