اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 59 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 59

اسوہ انسان کامل 59 شمائل نبوی مسجد میں داخل ہوتے وقت پہلے دایاں پاؤں اندر کھتے اور باہر نکلتے وقت پہلے بایاں پاؤں باہر رکھتے۔کسی کے بارے میں کوئی شکایت پہنچتی تو نام لئے بغیر ( بعض لوگ کہہ کر ) مجلس میں سرزنش یا تنبیہ فرماتے۔( بخاری )94 کسی کا نام بھول جا تا تو یا ابن عبد اللہ کہ کر پکارتے یعنی اے اللہ کے بندے کے بیٹے ! کوئی کام یادر کھنے کیلئے انگلی پر دھاگہ باندھ لیتے۔95 سفر پر جاتے تو مدینہ میں امیر مقرر فرماتے۔موسم گرما کی سخت گرمیوں کے بعد جب موسم سرما کی آمد آمد ہوتی تو خوش ہو کر اسے مرحبا کہتے۔بادل یا آندھی کے آثار دیکھ کر فکر مند ہو جاتے اور چہرہ متغیر ہو جاتا کہ یہ طوفان بادوباراں کہیں گزشتہ قوموں کی طرح عذاب کا پیش خیمہ نہ ہو اور پھر دعائے خیر میں لگ جاتے۔( بخاری ) 5 مگر موسم گرما کی عام بارش سے خوش ہوتے اور اسے بڑے شوق سے سر پر لے کر فرماتے۔”میرے رب کی طرف سے یہ تازہ رحمت آئی ہے ( احمد ) 96 خوش ہوتے تو چہرہ خوشی سے تمتما اٹھتا۔ناراض ہوتے تو چہرے کا رنگ سرخ ہو جاتا اور چہرے پر اس کے آثار ظاہر ہو جاتے۔(احمد) 97 کوئی غم پہنچتا تو فرماتے بندوں کی بجائے میرا رب میرے لئے کافی ہے۔اور نماز کی طرف توجہ فرماتے۔(احمد) 98 کسی کو سرزنش کرتے تو اتنا فرماتے۔اللہ اس کا بھلا کرے اسے کیا ہوا ؟“ زیادہ سوالات اور قیل وقال سے منع فرماتے تھے۔( بخاری )99 مسائل میں الجھنیں اور مشکلات پیدا کرنے سے بھی روکتے اور فرماتے آسانی پیدا کر و مشکل پیدا نہ کرو۔“ مجلس میں چھینک آتی تو منہ پر ہاتھ یا رومال رکھ لیتے۔جمائی آتی تو ہاتھ منہ پر رکھ لیتے۔تھوک پر مٹی ڈال کر اسے دفن کر دیتے۔( بخاری ) 100 کبھی آپ کو در دشقیقہ کی تکلیف بھی ہو جاتی تھی جو ایک یا دو دن رہتی تھی۔ایسی صورت میں گھر میں آرام فرماتے۔اخلاق فاضلہ وہ ہستی جس کے بارے میں عرش کے خدا نے گواہی دی کہ اے نبی تو عظیم اخلاق پر فائز ہے۔وہ اخلاق کیسے شاندار ہونگے۔حضور کے عام اخلاق کے بارہ میں حضرت خدیجہ کی پندرہ سالہ رفاقت کے بعد وہ گواہی کیسی زبردست ہے کہ آپ صلہ رحمی کرنے والے، دوسروں کے بوجھ بانٹنے والے، گمشدہ اخلاق اور نیکیوں کو زندہ کرنے والے مہمان نواز اور راہ حق