اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 594 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 594

594 نبی کریم " کا حسنِ مزاح اور بے تکلفی اسوہ انسان کامل لحاظ سے بھی غیر معمولی فراست عطا ہوئی تھی۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ بہت مزاح کرتے تھے۔اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ سے مزاح کرنے والے پر ناراض نہیں ہوتا۔(سیوطی ( 5 رسول کریم کے مزاج میں سیوست یا خشکی ہرگز نہیں تھی آپ شگفتہ مذاق پسند فرماتے تھے۔صحابہ رسول بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ہماری مجلس میں آکر بیٹھ جاتے ،کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم ہنسی خوشی بیٹھے ہوں اور آپ نے کوئی مایوسی یا غم والی بات کر دی ہو۔آپ ہمارے ساتھ اُٹھتے بیٹھتے تھے اور خوش ہوتے تھے ، لطیفے وغیرہ سنتے اور سناتے تھے۔(مسلم)6 حضرت جابر بن سمرہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کے ساتھ سو سے زیادہ مجالس میں فیض صحبت پایا۔آپ کے اصحاب آپ کے سامنے اعلیٰ اشعار اور دور جاہلیت کی دیگر متفرق باتیں بیان کرتے۔رسول اللہ خاموشی سے ان کی باتیں سنتے اور بسا اوقات آپ بھی تبسم فرماتے۔(ترمذی) 7 حضرت زید بن ثابت بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ کی مجالس میں جب ہم دنیا داری کی باتوں کا ذکر کرتے تو آپ ہمارے ساتھ اس میں شریک ہوتے۔جب ہم کھانے وغیرہ کی باتیں کرتے تو اس میں بھی حصہ لیتے۔( بیھقی ) 8 حضرت عبداللہ بن عباس سے کسی نے پوچھا کہ رسول اللہ کیسا مذاق کرتے تھے ؟ انہوں نے جوابا یہ مثال دی کہ مثلاً ایک دفعہ ایک زوجہ محترمہ کو ایک کپڑا اوڑھا کر فرمایا اللہ کی حمد و ثناء کرو اور دلہنوں کی طرح اپنا دامن گھسیٹ کر چلو۔(کنز ) 9 رسول کریم کے مزاح کا ایک اچھوتا اسلوب یہ تھا کہ کسی روز مرہ بات کو ایسے ہلکے پھلکے انداز میں پیش کرتے کہ مزاح کی کیفیت پیدا ہو جاتی۔مثلاً ہر شخص کے دوکان ہی تو ہوتے ہیں۔رسول اللہ کا پیار سے اپنے خادم انس" کو یوں پکارنا کہ اے دوکانوں والے ذرا ادھر تو آنا۔کیسا مزاح پیدا کر دیتا ہے۔(ترمندی ) 10 اس مزاح میں یہ لطیف فلسفہ بھی تھا کہ اطاعت شعار انس رسول اللہ کے ارشاد پر کان لگائے رکھتے تھے۔اسی طرح ایک مرتبہ لمبے قد کے آدمی کو ذوالیدین یعنی لمبے ہاتھوں والا کہہ کر یا فرمایا۔ایک دفعہ ایک صحابی حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا مجھے سواری کے لئے اونٹنی کی ضرورت ہے۔آپ نے فرمایا میرے پاس تو اونٹ کا بچہ ہے۔اُس شخص نے عرض کیا۔حضور میں اونٹ کا بچہ لے کر کیا کروں گا ؟ فرمایا اونٹ بھی تو اونٹ کا بچہ ہی ہوتا ہے۔پھر ایک اونٹ اس کے حوالے کر دیا۔(ابوداؤد ) 11 حضرت انس بن مالک خادم رسول بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم بچوں کے ساتھ سب سے زیادہ مزاح اور بے تکلفی کی باتیں کرتے تھے۔(بیہقی )12 حضرت سفینہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول کریم کے ساتھ ایک سفر میں شریک تھے، جب بھی ہمارا کوئی ساتھی تھک جاتا تو وہ اپنا سامان تلوار ڈھال یا نیزہ مجھے پکڑا دیتا یہاں تک کہ میرے پاس بہت سا سامان جمع ہو گیا۔نبی کریم نے جو یہ سب دیکھ رہے تھے فرمایاتم واقعی سفینہ (یعنی کشتی ) ہو۔(احمد) 13 جس نے سب مسافروں کا سامان سنبھال رکھا ہے۔