اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 593 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 593

اسوہ انسان کامل 593 نبی کریم " کا حسنِ مزاح اور بے تکلفی نبی کریم " کا حُسن مزاح اور بے تکلفی انسان کی کچی خوشی اور خوشحالی اپنے خالق و مالک کے ساتھ ربط و تعلق اور راضی برضاء الہی رہنے میں ہے۔خدا سے کامل تعلق پیدا کرنے والوں کو نفس مطمئنہ “ کا مقام عطا ہوتا ہے۔ایمانی و عملی استقامت کے نتیجہ میں ایسے لوگ ملائکہ کی یہ تسکین آمیز آواز سنتے ہیں کہ ڈرو نہیں اور خوف نہ کھاؤ بلکہ اُس جنت کی بشارت پاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔(سورۃ حم السجدہ: 31) ان مومنوں کی یہی دنیا جنت بن جاتی ہے اور الہی بشارتوں اور خوشخبریوں کا ایک سلسلہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔جس پر انہیں کامل ایمان ہوتا ہے۔(سورۃ یونس :63-64) اللہ تعالیٰ کے اس فضل اور رحم پر وہ بجا طور پر خوش ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا حکم بھی یہی ہے کہ اس پر انہیں خوش ہونا چاہئے۔(سورۃ یونس : 59) رسول کریم فرمایا کرتے تھے کہ مومن کا حال بھی عجیب ہے کہ جب اسے کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ بخوشی صبر کرتا اور خدا سے اجر پاتا ہے۔اور جب اسے انعام ملے تو شکر کرتا ہے اور اس کا بھی اجر پاتا ہے۔گویا مومن ہر حال میں خوش اور راضی برضا ہوتا ہے۔اس لحاظ سے کچی خوشی اور خوش طبعی نہ صرف انسان کے صحت مند جسم و ذہن اور اعلی ذوق کی علامت ہے بلکہ اس کے ایمان کی نشانی بھی بن جاتی ہے۔ہمارے نبی کریم سے بڑھ کر کون ہے جسے مقام رضا نصیب ہوا ہو۔آپ خوش طبع تھے، مسکرانا آپ کی عادت تھی۔اپنے صحابہ کو بھی تلقین فرماتے تھے کہ کسی نیکی کو حقیر مت سمجھو خواہ اپنے بھائی سے خندہ پیشانی اور مسکراہٹ سے پیش آنے کی نیکی ہو۔( مسلم ) 1 صحابہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم سب لوگوں سے بڑھ کر مسکرانے والے اور سب سے زیادہ عمدہ طبیعت کے تھے۔حضرت جابر کی روایت ہے کہ رسول کریم پر جب وحی آتی یا جب آپ وعظ فرماتے تو آپ ایک ایسی قوم کے ڈرانے والے معلوم ہوتے جس پر عذاب آنے والا ہو مگر آپ کی عمومی کیفیت یہ ہوتی تھی کہ سب سے زیادہ مسکراتا ہوا حسین چہرہ آپ کا ہوتا تھا۔( بیشمی )2 حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ گھر میں ہمیشہ خوش اور ہنستے مسکراتے وقت گزارتے تھے۔(زرقانی) 3 لطیف اور پاکیزہ مزاح آنحضور ﷺ کی حسن مزاح بہت لطیف تھی۔آپ صاف ستھرا اور سچامذاق کرتے تھے۔فرماتے تھے کہ میں مذاق میں بھی جھوٹ نہیں کہتا۔( ترندی) 4 لطیف اور پاکیزہ مزاح اعلیٰ درجہ کی ذہانت کا متقاضی ہوتا ہے۔رسول اللہ ﷺ کو اس