اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 564 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 564

اسوہ انسان کامل 564 رسول اللہ کی حیرت انگیز تواضع مسلمانوں کی شدت کا اظہار کرنے کے لئے ایسا کر رہے ہو۔( پیشمی ) 53 دنیا میں بڑائی کے اظہار کے ذریعے طاقت و حکومت مال و دولت ، علم وفضل اور عزت و وجاہت مانے جاتے ہیں۔نبی کریم نے یہ تمام نعمتیں پائیں مگر تکبر کو پاس تک نہیں پھٹکنے دیا۔ہمیشہ تقویٰ اور خدا خوفی کو عزت و تکریم کا حقیقی معیار قرار دیا۔آپ کے پاس مال آیا تو اُسے بے دریغ خدا کی راہ میں خرچ کیا۔کوئی پیسہ جمع نہیں کیا۔کوئی محل نہیں بنوایا۔کوئی در بار نہیں سجایا۔اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہوئے بھی یہی نعرہ بلند کیا کہ اِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللَّهُ الْمُعْطِى يہ سب خدا کی عطا ہے۔میں تو محض تقسیم کر نیوالا ہوں۔( بخاری )54 آپ کو خدائے علام الغیوب نے علم عطا فرمایا کہ دریا بہادئیے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تجھے خدا نے وہ سکھایا جوتو نہیں جانتا تھا اور اس لحاظ سے اللہ کا آپ پر بہت بڑا فضل ہے۔(سورۃ النساء: 114) علم کا انکسار رسول اللہ کو علم و معرفت کی اس فراوانی کے باوجود کبھی علم کے تکبر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوا، بلکہ جتناعلم بڑھتا گیا خدا کے حضور اتنے ہی جھکتے چلے گئے۔مدینہ کے یہودی جو علمی لحاظ سے بھی آپ کے بڑے حریف تھے۔جن کو صبح و شام یہ قرآنی چینج دیے جاتے تھے کہ قرآن کے مقابل ایک آیت ہی پیش کر دکھاؤ۔وہ بسا اوقات آکر اپنی طرف سے مشکل سے مشکل سوال کرتے۔رسول کریم قرآنی اسلوب کے مطابق لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ (بنی اسرائیل: 37) پر عمل کر کے دکھاتے یعنی جس بات کا تجھے علم نہیں اس موقف کو اختیار نہ کر۔صحابہ آپ سے ہی سیکھ کر کہا کرتے تھے کہ یہ بھی انسان کے علم کی نشانی ہے کہ جس بات کا پتہ نہ ہو صاف کہہ دے کہ مجھے اس کا علم نہیں۔(بخاری)55 ایک دفعہ آپ مدینہ کے ایک ویرانے سے گزر رہے تھے۔یہود کی ایک جماعت کا بھی ادھر سے گذر ہوا، وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ان سے روح کے متعلق سوال پوچھو۔بعض نے کہا مت پوچھو کیونکہ ایسا سخت جواب دیں گے جو تمہیں پسند نہ آئے گا۔بعض نے پوچھنے پر اصرار کیا۔چنانچہ ایک شخص نے روح کے بارہ میں سوال پوچھا تو حضور خاموش ہو گئے۔عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں میں نے سوچا کہ آپ کی طرف وحی ہورہی ہے۔جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے (بنی اسرائیل: 86) کی تلاوت فرمائی۔جس میں اس سوال کا جواب ہے۔( بخاری 56 ) گویا جب تک خدا کی طرف سے جواب عطا نہ ہوا آپ نے خاموشی کو عار نہیں سمجھا۔عظیم فتح پر انکساری انسان کو سب سے بڑا تکبر حکومت و طاقت کے بل بوتے پر ہوتا ہے۔مگر ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی بھی عجیب شان ہے کہ سب سے زیادہ انکسار اس موقع پر دکھایا۔جب زندگی کی سب سے بڑی فتح اپنے سب سے بڑے دشمن مشرکین مکہ پر حاصل ہوئی۔