اسوہء انسانِ کامل — Page 563
اسوہ انسان کامل 563 رسول اللہ کی حیرت انگیز تواضع ایک نابینا حاضر خدمت ہوا اور عرض کی کہ حضور میرے لئے دعا کریں کہ میری بصارت لوٹ آئے۔آپ نے فرمایا اگر تم کہو تو میں دعا کر دیتا ہوں اور اگر چاہو تو صبر کرو اور میرے خیال میں یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے۔جب نابینا نے دعا پر ہی زور دیا تو آپ نے اُسے ایک دعا سکھائی۔(ترمذی )48 کسی ضرورت مند کو دیکھ کر رسول اللہ کا دل اس کی مدد کیلئے رحم سے بھر جاتا۔ایک دفعہ نماز پر جاتے ہوئے ایک نا تجربہ کار بچے کو جانور کی کھال اتارتے دیکھتے ہیں۔آپ اس کا درست طریق خود کھال اُتار کر اسے سمجھاتے ہیں اور پھر آگے نماز پر تشریف لے جاتے ہیں۔(ابن ماجہ )49 اپنے کم سن غلام زادے اسامہ کی ناک بہتی دیکھتے ہیں تو خود صاف کرنے کو آگے بڑھتے ہیں۔حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے کھانے یعنی پیالے میں ڈالا۔اپنے ساتھ اُسے کھانا کھلایا اور فرمایا اللہ پر توکل اور بھروسہ کرتے ہوئے کھاؤ۔(ترمذی) 50 صحابہ کو عاجزی کے سبق حضرت عمر نے عمرہ پر جانے کے لئے اجازت چاہی تو اجازت دیدی اور کمال انکسار سے فرمایا۔اے بھیا! ہمیں اپنی دعاؤں میں نہ بھولنا۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں مجھے اس بات سے اتنی خوشی ہوئی کہ ساری دنیا بھی مل جائے تو اتنی خوشی نہ ہوتی۔(ابوداؤد )51 تواضع و انکسار کا یہی عملی سبق نبی کریم نے اپنے صحابہ کو دیا۔قرآن شریف نے بھی ان غلامانِ محمد کی تعریف کی اور فرمایا کہ ان کی عاجزی کے اصل جو ہر تب کھلتے ہیں ، جب بارگاہ الوہیت میں ان کی گردنیں خم ہوتی اور جبینیں اس کی چوکھٹ پر سر بسجو دہوتی ہیں۔انکسار کے ان پتلوں کی یہ کیفیت دراصل رضائے باری کے حصول کی خاطر ہوتی ، جہاں خدا کی مرضی شدت وصلابت کے اظہار کی ہو وہاں طاقت و شوکت ظاہر کرتے اور جہاں تواضع کا اظہار مقصود ہوتا انکساری دکھاتے ہیں۔گویا ان میں اپنے محل اور موقع پر تواضع دکھانے کا خلق پوری شان کے ساتھ جلوہ گر ہے۔یہی سبق رسول اللہ نے اپنے صحابہ کو دیا تھا۔جب حدیبیہ کے اگلے سال کے موقع پر صحابہ مکہ میں عمرہ کرنے آئے۔کفار مکہ کی ایک گھائی سے مسلمانوں کو طواف کرتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔مکہ میں مشہور ہو چکا تھا کہ مسلمانوں کو مدینہ کے بخار نے کمزور اور انکی کمروں کو نم کر دیا ہے۔نبی کریم نے صحابہ کو حکم دیا کہ جہاں سے مشرک مسلمانوں کو طواف کرتے دیکھ رہے تھے وہاں وہ دوڑ کر طواف کریں اور باقی چکر میں بے شک پیدل چلیں۔( بخاری )52 ایک صحابی اس موقع پر طواف کرتے ہوئے جب کفار کے سامنے سے گزرے تو ان کے مقابل پر مضبوطی کے اظہار کے لئے اکڑ کر چلتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ عام حالات میں تو اکڑ کر چلنے کا یہ انداز خدا کو پسندیدہ نہیں۔مگر آج تمہارا یہ انداز خدا کو بہت بھلا اور پیارا لگا۔کیونکہ آج تم دشمنانِ اسلام کے مقابل پر