اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 565 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 565

565 اسوہ انسان کامل رسول اللہ کی حیرت انگیز تواضع مکہ آپ کا پیارا وطن تھا جہاں سے بزور شمشیر آپ کو نکالا گیا۔مگر خدا کی شان کہ جلاوطنی کے صرف آٹھ سال بعد اُس شہر میں جب آپ فاتحانہ شان سے داخل ہوئے تو دس ہزار صحابہ کا لشکر آپ کے جلو میں تھا۔آپ چاہتے تو ایسی ظاہری شان وشوکت اور ہیبت سے مکہ میں داخل ہوتے کہ اہل مکہ کے دل بیٹھ جاتے۔مگر خدا کا یہ متواضع بندہ کس شان انکسار سے شہر مکہ میں داخل ہوا۔مفتوح قوم کے لوگ جوق در جوق فاتح شہر کو دیکھنے نکلے تو وہاں عجیب نظارہ تھا۔رسول اللہ ﷺ کسی اعلیٰ درجہ کے گھوڑے پر نہیں بلکہ ایک اونٹ پر سوار تھے اور کسی فخر یا تکبر کا تو کیا کر تواضع اور انکسار کی وجہ سے آپ کی گردن جھکی ہوئی تھی اور جھکتی چلی جارہی تھی۔یہاں تک کہ آپ کی پیشانی اونٹ کے پالان کی لکڑی کو چھونے لگی۔(ابن ھشام ) 57 آپ اپنے مولیٰ کے حضور سجدہ شکر بجالا رہے تھے۔آپ کی زبان اس وقت خدا کی عظمت کے گیت گا رہی تھی۔سچ پوچھو تو اس وقت آپ کی پیشانی کا جھکنا تو انکسار کی محض ایک ظاہری علامت تھی۔فی الحقیقت اس وقت آپ کے جسم کا رواں رواں خدا کے حضور سجدہ شکر بجالا رہا تھا۔یہ تھا دنیا کا عظیم فاتح ،دنیا کا شہنشاہ مگر بیک وقت متواضع اور منکسر المزاج انسان۔یہ تو آپ کی فتح کا موقع تھا۔آپ کا تو دستور تھا کہ ہر سفر میں ہر بلندی پر چڑھتے ہوئے بھی اللہ اکبر پڑھتے جس میں یہ پیغام ہوتا تھا۔اللہ سب سے بڑا ہے سب بلندیاں اصل میں اسی کو زیبا ہیں۔(بخاری) 8 یہ ہے تواضع اور انکسار میں شاہ دو جہاں کا اسوہ حسنہ جو آپ نے عرب کے اس دور میں دکھایا جسے فخر ومباہات اور اظہار کبروغرور کا دور کہا جاسکتا ہے، کیونکہ زمانہ جاہلیت میں عربوں کے جملہ اوصاف واخلاق تفاخر کے گرد گھومتے تھے، وہ جنگ کرتے تھے تو نام پیدا کرنے کے لئے ، مہمان نوازی کرتے تھے تو شہرت کی خاطر سخاوت کرتے تھے تو نمود کے لئے ، وہ اپنی ناک رکھنے اور جھوٹی عزت کی خاطر جان کی بازی لگا دینے سے بھی دریغ نہ کرتے تھے، اسی ذاتی وجاہت اور خاندانی عزت کے جھوٹ کب کا نتیجہ تھا کہ زمانہ جاہلیت میں ادنی سی بات پر شروع ہونے والی جنگیں سالہا سال چلیں۔نبی کریم نے اس معاشرہ کو خاکساری کا درس اور عملی نمونہ دیا تھا۔دیگر انبیاء کے مقابل انکسار کی شان آپ سردار انبیاء ٹھہرائے گئے مگر تواضع ایسی کہ ہمیشہ دیگر انبیاء کی شان بیان کرتے نظر آتے ہیں۔کبھی فرماتے ہیں نَحْنُ أَحَقُّ بِالْشَّكِ مِنْ إِبْرَاهِيمَ کہ ابراہیم علیہ السلام نے خدا کے حضور اطمینان قلب کے لئے احیاء موتی کا جو نشان مانگا تھا اگر وہ شک تھا تو پھر ہم اس شک کے زیادہ حقدار ہیں۔( بخاری )59 58 ایک دفعہ کسی نے آپ کو يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ کہہ کر پکارا۔یعنی اے مخلوق کے بہترین وجود! آپ نے فرمایا وہ تو ابراہیم تھے۔(احمد) 60 کبھی حضرت لوط علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں اللہ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، کیسے مشکل اور کٹھن