اسوہء انسانِ کامل — Page 549
اسوہ انسان کامل 549 رسول اللہ کی بے نظیر شجاعت قریش کے پہلوان سے کشتی کا مقابلہ رُکا نہ بین عبد یزید خاندان قریش کا ایک بہادر سورما تھا۔یہ رسول اللہ کی مخالفت میں پیش پیش تھا۔ایک دن مکہ کی گھاٹیوں میں رسول اللہ کی اس سے ملاقات ہو گئی۔آپ نے اسے اسلام کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ " کیا تم اللہ سے نہیں ڈرو گے اور جس پیغام کی طرف میں بلاتا ہوں اسے قبول نہیں کرو گے۔وہ کہنے لگا ”اگر مجھے یقین ہو جائے کہ آپ کا دعویٰ برحق ہے تو ضرور آپ کی پیروی کروں گا۔رسول اللہ نے فرمایا اگر میں کشتی میں تمہیں پچھاڑ دوں تو تمہیں یقین ہو جائے گا کہ میرا دعوی برحق ہے۔“ اس نے کہا ہاں، آپ نے فرمایا پھر آؤ کشتی کر لو۔رُکا نہ آپ سے کشتی کرنے لگا رسول اللہ نے اسے پکڑ کر گرا دیا اور وہ کچھ بھی نہ کر سکا ، اس نے خیال کیا کہ اتفاق سے ایسا ہوا ہے، چنانچہ دوسری گشتی کی دعوت دی، رسول اللہ نے اسے دوبارہ بھی گرا دیا۔اسے اپنی پہلوانی پر بہت گھمنڈ تھا، کہنے لگا مجھے تعجب ہے کہ آپ نے مجھے گرا لیا ، آپ نے فرمایا کہ اس سے بھی عجیب تر نشان میں تجھے دکھا سکتا ہوں، بشر طیکہ تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور میری پیروی کرو۔رُکا نہ اپنی قوم میں جا کر کہنے لگا کہ اے عبد مناف ! تم محمد کے ذریعہ سب دنیا پر جادو کر سکتے ہو، میں نے اس سے بڑا جادو گر نہیں دیکھا۔پھر اس نے سارا قصہ سنایا اور یوں یہ واقعہ رکا نہ کے قبول اسلام کا موجب بن گیا۔( بخاری وابن ہشام) 7 قیام مکہ کے زمانہ میں شعب ابی طالب میں اسیری کے ایام بھی رسول کریم نے کمال شجاعت سے گزارے۔اس زمانہ میں آپ کی زندگی کو قدم قدم پر خطرات درپیش تھے یہاں تک کہ ابو طالب ہر رات آپ کے سونے کی جگہ بدل دیا کرتے تھے۔طائف کے تبلیغی سفر میں جب تن تنہا رسول کریم نے طائف کے سرداروں اور سرکشوں کو نڈ راور بے خوف ہوکر پیغام تو حید پہنچایا اور اہل طائف کی سنگ باری سے لہولہان ہو گئے یہاں تک کہ مشہور عیسائی مستشرق سرولیم میور کو بھی تسلیم کرنا پڑا کہ محمد کے طائف کے سفر میں ایک عجیب شجاعانہ رنگ پایا جاتا ہے۔“ پھر سفر ہجرت میں بھی رسول اللہ کی غیر معمولی شجاعت ظاہر ہوئی۔غار ثور میں پناہ کے دوران دشمن سر کے اوپر ہے۔مگر خدا کا موحد نبی کمال ثابت قدمی سے اپنے ساتھی ابو بکر کو بھی تسلی اور دلا سے دے رہا ہے کہ غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔دوران سفر سراقہ تعاقب کرتے ہوئے پاس پہنچ جاتا ہے اور آپ کو پرواہ نہیں۔وہی سراقہ اپنے گھوڑے کے ھنس جانے کے بعد واپس جاتے ہوئے آپ کا امان نامہ لے کر واپس لوٹتا ہے۔ہجرت مدینہ کے بعد بھی جب دشمن نے پیچھا نہ چھوڑا اور مسلمانوں کو اپنے دفاع کے لئے تلوار اٹھانی پڑی تو رسول اللہ شمشیر برہنہ کی طرح ہر مہم سر کرنے کیلئے ہمہ وقت ایسے تیار و آمادہ ہوتے تھے کہ زندگی بھر کبھی موت کا خوف نہ ہوا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اگر امت پر گراں نہ ہوتا تو ہر مہم پر بھجوائے جانے والے دستہ میں میں خود شریک ہوتا اور میری تو دلی تمنا یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر مارا جاؤں۔( بخاری )8