اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 548 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 548

اسوہ انسان کامل 548 رسول اللہ کی بے نظیر شجاعت رسول اللہ کی بے نظیر شجاعت شجاعت کی جڑ تو حید خالص پر ایمان اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل تو کل اور بھروسہ ہے۔خدا تعالیٰ کے نبی اور مامور جو ساری دنیا کو پیغام پہنچانے اور زمانے کے دھارے کا رخ بدلنے اور دنیا میں ایک انقلاب برپا کرنے کے لئے آتے ہیں۔انہیں ایک خدا داد ہمت ، مردانگی اور شجاعت عطا کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”وہ لوگ جو اللہ کا پیغام پہنچاتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے“ (سورۃ الاحزاب : 40) نبی کریم سے بھی کامل موحد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر بہادر تھے۔رسول کریم نے اپنی خدا داد شجاعت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ” مجھے سخاوت اور شجاعت کے اخلاق میں لوگوں پر فضیلت دی گئی ہے۔حضرت انس بیان کرتے تھے کہ نبی کریم سب لوگوں سے بڑھ کر شجاع اور بہادر تھے۔( بیٹمی ) 1 حضرت براء بن عازب کہا کرتے تھے کہ جب میدانِ جنگ میں بلا کا رن پڑتا تو خدا کی قسم ! ایسے میں ہم رسول کریم کو ڈھال بنا کر لڑتے تھے اور ہم میں سے بہادر وہ سمجھا جاتا تھا جو رسول کریم کے پہلو میں ہو کر جم کر لڑے۔(مسلم )2 حضرت علی فرماتے تھے کہ جب میدان کارزار گرم ہوتا اور مخالف فو جیں یا ہم ٹکرا جاتیں ہم رسول کریم کی اوٹ میں ہوکر لڑتے تھے۔اور ہم میں سے حضور سے زیادہ دشمن سے قریب اور کوئی نہ ہوتا تھا۔(حاکم 3) نیز آپ فرماتے تھے کہ رسول کریم تمام لوگوں سے زیادہ جرات مند اور بہادر تھے۔(کنز )4 حضرت عمران بن حصین کا بیان ہے کہ رسول کریم کا کبھی کسی لشکر سےمقابلہ نہیں ہوا مگر آپ سب سے پہلے تلوار کے ساتھ حملہ آور ہوتے تھے۔(ابن سید ) 5 مکہ میں تیرہ سالہ مظالم کا اذیت ناک دور نبی کریم نے جس شجاعت اور مردانگی سے گزارا ہے وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔ہر چند کہ اہل مکہ سے آپ کی جان کو خطرہ لاحق ہوتا تھا مگر آپ ان کے درمیان چلتے پھرتے صحن کعبہ میں جاتے ، اعلانیہ عبادت کرتے اور قرآن کی تلاوت کرتے۔دشمن نے بار ہا آپ کے قتل کے منصوبے بنائے مگر نا کام ہوئے۔ایک دن ابوجہل نے کہا کہ اب اگر میں نے محمد کو صحن کعبہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آکر اس کی گردن مار دونگا۔نبی کریم نے کمال بہادری سے فرمایا اگر وہ ایسا کرے گا تو فرشتے اسی وقت اس پر گرفت کریں گے۔( بخاری )6