اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 550 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 550

اسوہ انسان کامل 550 رسول اللہ کی بے نظیر شجاعت ایک رات مدینہ کے نواح میں اچانک کچھ شور بلند ہوا۔شمال اور مغرب کی سمت سے مدینہ پر دشمن کے اچانک حملے کے خطرے تو رہتے ہی تھے۔لوگ اکٹھے ہو کر، جتھا بنا کر آواز کی سمت جانے لگے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار چلا آتا ہے۔گردن میں تلوار لٹک رہی ہے۔لوگ حیران تھے کہ کون بہادر شہ سوار رات کی تاریکی میں اتنی تیزی میں تنہا چلا آتا ہے۔قریب جا کر معلوم ہوا کہ رسول اللہ ہیں۔آپ کشور سنتے ہی ابوطلحہ کا گھوڑا لے کر صورتحال کا جائزہ لینے نکل کھڑے ہوئے تھے اور جلدی میں گھوڑے پر زین ڈالنے کا وقت بھی ضائع کرنا مناسب نہیں جانا بلکہ گھوڑے کی نگی پشت پر ہی سوار ہو کر مدینہ کے باہر چکر لگا کر آگئے اور معلوم کر لیا کہ کوئی خطرہ در پیش نہیں ( معلوم ہوتا ہے کوئی قافلہ گزرا جس کا شور تھا ) آپ لوگوں کو تسلی دیتے ہوئے فرما رہے تھے، گھبرانے کی کوئی بات نہیں، خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔پھر ابوطلحہ کے گھوڑے کے بارے میں آپ فرمانے لگے کہ میں نے تو آج اس گھوڑے کو سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مارنے والا پایا ہے۔( بخاری ) اور اسی سے اس شہ سوار کی شجاعت کا اندازہ خود کر لیں۔غزوہ اُحد کے بعد ابوسفیان جب جانب مکہ روانہ ہوا تو راستہ میں اُسے کچھ لوگ ملے اور پوچھا کہ مسلمانوں کے کتنے قیدی بنائے کیا مال غنیمت ہاتھ آیا تو ابوسفیان نے دوبارہ مدینہ پر حملہ کا ارادہ کیا۔حضور نے ابوسفیان کا تعاقب کرنے کا ارادہ ظاہر فرمایا، ستر مسلمان شہید ہو چکے تھے، ان کے عزیز رشتہ دار گہرے دلی صدمہ سے دو چار تھے ، باقی مسلمان اکثر زخمی تھے۔یہ موقع بظاہر جیتے ہوئے لشکر کے اوپر حملے کا ارادہ اور غینم کا تعاقب ایک بھاری امتحان تھا۔چنانچہ حضور کی پہلی تحریک پر لوگ متذبذب تھے۔تب حضور نے واشگاف اور دوٹوک الفاظ میں اپنے عزم کا یوں اظہار فرمایا کہ اگر دشمن کے تعاقب کے لئے میرے ساتھ ایک شخص بھی نہ آیا تو میں تن تنہا لشکر ابوسفیان کے تعاقب میں جاؤں گا اور ضرور جاؤں گا۔یہ عزم اور شجاعت دیکھ کر تمام زخمی صحابہ بھی والہانہ لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھے ان میں ابوبکر بھی تھے اور زبیر بھی عمر اور عثمان بھی علی اور عمار بن یاسر بھی طلحہ وسعد اور عبد الرحمان بن عوف بھی الغرض یہ ستر صحابہ تھے۔جن کو سخت زخم پہنچے تھے۔انہوں نے رسول اللہ کی آواز پر لبیک کہا جس پر عرش کے خدا نے بھی ان کی تعریف کی اور فرمایا کہ وہ لوگ جنہوں نے زخمی ہونے کے باوجود رسول کی آواز پر لبیک کہا ان میں نیکی اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لئے بہت بڑا اجر ہے۔( بخاری ) 10 غزوہ ذات الرقاع میں ایک جانی دشمن رسول اللہ کے تعاقب میں چلا آیا۔رسول اللہ اپنے اصحاب کے ساتھ دو پہر کو سایہ دار درختوں کے نیچے آرام فرمارہے تھے۔دریں اثنا اس شخص نے سوتے ہوئے ، آپ کی تلوار سونت لی اور پوچھا، اب آپ کو مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟ رسول اللہ پر ذرا خوف نہیں، انتہائی یقین اور خدا دا در عب سے فرمایا ”میرا اللہ اور تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔(بخاری) 11 یہی شان شجاعت غزوہ حدیبیہ میں بھی نظر آئی جب رسول کریم ﷺ ہجرت کے چھٹے سال اپنے ایک رؤیا کی بنا پر