اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 536 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 536

اسوہ انسان کامل 536 نبی کریم کا شاندار حلم اس نے جو سوالات کئے تھے مجھے ان کا کوئی علم نہ تھا مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کا علم عطا فر مایا۔(ابن کثیر ) 16 نبی کریم سے تو گھر یلو خادم بھی روزمرہ معاملات میں یہی حلم کا نمونہ دیکھتے تھے۔آپ دن میں ستر سے بھی زائد مرتبہ خادم سے عفو کا سلوک کرتے تھے۔خادم رسول حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ میں نے دس سال رسول اللہ کی خدمت کی۔کبھی آپ نے مجھے برا بھلا نہیں کہا کبھی مارا نہیں نہ ہی ڈانٹا اور نہ کبھی منہ پر تیوری چڑھائی نہ کبھی کسی حکم کی تعمیل میں تاخیر کرنے پر سرزنش فرمائی۔بلکہ اگر اہل خانہ میں بھی کوئی مجھے ڈانٹے لگتا تو آپ فرماتے جانے بھی دو جو چیز مقدر ہوتی ہے وہ ہو کر رہتی ہے۔(مسلم ) 17 رسول کریم سے عرب کے نادان بدوؤں کی درشتی کے مقابل پر بھی ہمیشہ علم ہی ظاہر ہوا۔ایک دفعہ ایک بدو نے آپ کی خدمت میں دست سوال دراز کرتے ہوئے عجیب گستاخانہ طریق اختیار کیا۔آپ کی چادر کو اس نے اتنے زور سے کھینچا کہ آپ کی گردن مبارک پر نشان پڑگئے اور پھر بڑی ڈھٹائی سے کہنے لگا مجھے اللہ کے اس مال میں سے عطا کریں جو آپ کے پاس (امانت) ہے۔آپ نے اس دیہاتی کے اس رویہ پر نہ صرف صبر و ضبط اور تحمل کا مظاہرہ کیا بلکہ نہایت فراخدلی سے مسکراتے ہوئے اس کی امداد کرنے کا حکم دیا۔( بخاری ) 18 ایک دفعہ رسول کریم نے ایک بہو سے ایک وسق خشک کھجور ( قریبا سواد ومن ) کے عوض اونٹ خریدا۔گھر تشریف لا کر دیکھا تو کھجور ختم ہو چکی تھی۔آپ نے کمال سادگی اور سچائی سے جا کر بد و سے صاف صاف کہا کہ اے خدا کے بندے! ہم نے آپ سے خشک کھجور کے عوض اونٹ خریدا تھا اور ہمیں خیال تھا کہ اسقدر کھجور ہمارے پاس ہوگی ، مگر گھر آ کر پتہ چلا ہے کہ اتنی کھجور موجود نہیں۔وہ بد و کہنے لگا اے دھو کے باز۔لوگ اسے ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگے کہ رسول اللہ کو اس طرح کہتے ہو۔مگر رسول کریم نے فرمایا اسے جانے دو۔( احمد )19 مخالفین کے غلط الزامات اور نا مناسب اعتراضات پر بھی رسول کریم کبھی طیش میں نہیں آئے بلکہ ہمیشہ حلم دکھایا۔غزوہ حنین کے موقع پر آپ نے بعض سردارانِ قریش کو اسلام سے قریب کرنے کیلئے ازراہ تالیف قلب انعام و اکرام سے نوازا اور سوسو اونٹ عطا فرمائے۔اس پر ایک عام شخص نے اعتراض کر دیا کہ اس تقسیم میں عدل سے کام نہیں لیا گیا۔(اس کا مطلب ہوگا کہ اسے تو سو اونٹ نہیں ملے ) نبی کریم نے فرمایا اگر اللہ اور اس کا رسول عدل نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا؟ اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے ان پر اس سے زیادہ نکتہ چینی کر کے ایذاء دی گئی۔مگر انہوں نے صبر کیا۔گویا میں بھی صبر سے کام لیتا ہوں۔پھر آپ نے اسے معاف کر دیا۔( بخاری ) 20 رسول کریم نے اپنی قوم سے مسلسل انکار اور تکذیب دیکھ کر حلم اور صبر سے کام لیا اور بددعا میں جلدی نہیں کی۔حضرت عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ اہل مکہ نے نبی کریم سے مطالبہ کیا کہ صفا پہاڑی کوسونے کا بنا دیں یا مکہ سے پہاڑ ہٹا کر اسے میدانی علاقہ میں تبدیل کر دیں تا کہ وہ بآسانی کھیتی باڑی کر سکیں۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کریم سے