اسوہء انسانِ کامل — Page 535
اسوہ انسان کامل 535 نبی کریم کا شاندار حلم کیوں ڈرا رہے ہو؟ وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ا ایک یہودی نے آپ کو روک رکھا ہے۔رسول اللہ نے فرمایا ”میرے رب نے مجھے منع فرمایا ہے کہ میں کسی ایسے شخص سے جس سے ہمارا معاہدہ ہے یا کسی اور پر ظلم کروں۔“ جب دن چڑھا تو اس یہودی نے کلمہ پڑھ کر گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔پھر وہ کہنے لگا میں مال دار آدمی ہوں اور میرا آدھا مال اللہ کی راہ میں پیش ہے۔میں نے آپ کے ساتھ جو سلوک کیا تو ریت میں آپ کے متعلق بیان کردہ صفات جانچنے کے لئے کیا ہے۔جو درست ثابت ہوئی ہیں۔( حاکم )12 نبی کریم سخت باتیں سن کر نہ صرف عفو سے کام لیتے بلکہ بسا اوقات احسان کا سلوک فرماتے۔بہتر بن حکیم بیان کرتے ہیں کہ ان کا بھائی نبی کریم کے پاس آیا۔اس کے ہمسائے کسی کے مال پر ناجائز قبضہ کی وجہ سے ماخوذ تھے۔اس نے اپنے ہمسایوں کی سفارش کی کہ اس کی ضمانت پر ان کو چھوڑ دیا جائے۔نبی کریم نے پہلے اس کی بات پر توجہ نہیں فرمائی۔دریں اثناء وہ آپ پر کھلم کھلا اعتراض کرنے لگا کہ سنا ہے۔آپ لوگوں کو تو زیادتی سے روکتے ہیں مگر خود اس کے مرتکب ہوتے ہیں۔آپ نے فرمایا " اگر میں ایسا کروں اس کی پرسش مجھ سے ہو گی تم سے نہیں ہوگی۔پھر فرمایا کہ اس کے ہمسایوں کو رہا کر دو۔(مستدرک حاکم ) 13 حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ یہودی نبی کریم کے پاس حاضر ہوتے اور سلام کی بجائے کہتے السام علیکم یعنی تم پر لعنت اور ہلاکت کی مار ہو۔ایک دفعہ حضرت عائشہ نے ان کو جواب دیا تکرار سے کہا تم پر اللہ کی لعنت اور غضب ہو۔نبی کریم نے فرمایا ” اے عائشہ ا نرمی اختیار کرو سختی اور درشت گوئی سے بچو۔“ حضرت عائشہ نے کہا یا رسول اللہ ! آپ نے سنا نہیں ان یہود نے کن الفاظ سے آپ کو سلام کیا ہے۔نبی کریم نے فرمایا اور کیا تم نے میرا جواب نہیں سنا تھا۔میں نے بھی صرف ”علیکم ہی کہا تھا کہ جو تم نے کہا وہی تم پر ہو اور میری دعا تو ان کے بارہ میں قبول ہوگی مگر ان کی دعا میرے خلاف کبھی قبول نہ ہوگی۔‘‘ ( بخاری )14 پھر رسول کریم ﷺ نے حضرت عائشہ کو اپنے پاکیزہ نمونہ کے موافق نرمی اور حلم کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اے عائشہ! نرمی جس چیز میں بھی پائی جائے اسے زینت عطا کر دیتی ہے اور جس بات میں نرمی نہ رہے اس میں تختی بدصورتی اور عیب پیدا کر دیتی ہے۔نیز فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی پسند فرماتا ہے۔( احمد ) 15 مملکت مدینہ کے سر براہ ہوتے ہوئے بھی رسول کریم نے یہود مدینہ کی گستاخیوں کے باوجود ہمیشہ ان سے رواداری اور علم کا سلوک کیا۔حضرت ثوبان بیان کرتے ہیں کہ میں رسول کریم کے پاس کھڑا تھا کہ ایک یہودی عالم آیا اور کہنے لگا اے محمد ! آپ پر سلام ہو۔میں نے اسے زور سے پیچھے دھکا دیا۔قریب تھا کہ وہ گر جائے۔اس نے کہا تم نے مجھے دھکا کیوں دیا؟ میں نے کہا تم اللہ کا رسول کہہ کر حضور کو مخاطب نہیں کر سکتے ؟ یہودی عالم کہنے لگا ہم تو اسے اسی نام سے پکاریں گے جو اس کے گھر والوں نے اس کا رکھا ہے۔رسول اللہ نے فرمایا ہاں یہ ٹھیک کہتا ہے۔میرے گھر والوں نے میرا نام محمد ہی رکھا ہے۔اس کے بعد اس یہودی نے کچھ سوالات کئے۔اس کے جانے کے بعد نبی کریم نے فرمایا ابھی