اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 534 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 534

534 اسوہ انسان کامل نبی کریم کا شاندار حلم بتایا کہ فلاں بستی کے لوگ مسلمان ہو گئے ہیں اور میں نے انہیں کہا کہ مسلمان ہونے کی صورت میں اللہ تعالیٰ تمہیں وافر رزق دے گا۔مگر ان پر تو قحط کی مصیبت ٹوٹ پڑی ہے۔مجھے ڈر ہے کہ وہ ترک اسلام نہ کر دیں۔اگر آپ پسند فرما ئیں تو کوئی چیز ان کی امداد کے واسطے بھجوا ئیں۔اس یہودی زید نے موقع غنیمت جانتے ہوئے کہا میں اتنے من غلہ بطور قرض خرید کر دیتا ہوں اور پھر اسی دینار کا غلہ خرید کر دے دیا۔آپ نے اس شخص کو فرمایا کہ جلدی جا کر ان لوگوں کی حاجت پوری کرو۔قرض کی میعاد پوری ہونے سے دو تین دن قبل رسول اللہ اپنے اصحاب کے ساتھ ایک جنازہ کے لئے نکلے۔زیڈ نے آپ کی چادر زور سے کھینچی یہاں تک کہ وہ آپ کے کندھے سے گر گئی۔زید نے غصے والا منہ بنا کرختی سے پوچھا کہ اے محمد ! تم میرا قرض ادا کرو گے یا نہیں؟ خدا کی قسم ! مجھے پتہ ہے کہ تم بنی مطلب کی اولا د بہت ٹال مٹول سے کام لیتے ہو۔اس پر عمر بن خطاب غصہ سے کانپ اُٹھے اور زیڈ کی طرف غصے بھری نظروں سے دیکھ کر کہا اے اللہ کے دشمن کیا تو میرے سامنے خدا کے رسول کی اس طرح گستاخی کرنے کی جرات کرتا ہے۔اگر مجھے رسول اللہ کالحاظ نہ ہوتا تو میں تمہاری گردن اڑا دیتا۔رسول اللہ نے نہایت وقار اور سکون سے یہ سب ملاحظہ فرماتے رہے اور پھر عمر سے مسکراتے ہوئے یوں مخاطب ہوئے اے عمر ! ہم دونوں کو تم سے اس کے علاوہ کسی چیز کی ضرورت تھی تمہیں چاہئے تھا کہ مجھے قرض عمدگی سے ادا کرنے کی تلقین کرتے اور اسے قرض مانگنے کا سلیقہ سمجھاتے۔عمر ! اب آپ ہی جا کر اس کا قرض ادا کر دو اور کچھ کھجور زائد بھی دے دینا۔جب عمر نے میرا قرضہ بے باک کر کے زائد کھجور بطور انعام دی۔تو میں نے ان سے پوچھا یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا جو زبانی کلامی سختی میں نے تم سے کی تھی اس کے عوض یہ کھجور زائد ہے۔تب زیڈ نے اپنا تعارف کروایا اور کہا کہ وہ زید بن سعنہ یہود کے عالم ہیں۔عمر نے رسول اللہ سے بدسلوکی کی وجہ پوچھی؟ زیڈ نے صاف صاف بتایا کہ دراصل میں نے رسول اللہ کی نبوت کی تمام علامات پہچان لی تھیں ایک علم کا امتحان باقی تھا، سواب وہ بھی آزمالیا ہے۔پس اے عمر ! اب میں اسلام قبول کرتا ہوں۔میرا نصف مال خدا کی خاطر وقف ہے۔اور میرا مال بہت ہے جو میں امت محمدیہ پر صدقہ کرتا ہوں۔پھر عمر زید کو لے کر رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔زید نے کلمہ توحید ورسالت پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔پھر اس کا سارا خاندان بھی مسلمان ہو گیا۔زید بن سعنہ ایمان لانے کے بعد کئی غزوات میں رسول اللہ کے ساتھ شریک ہوئے۔(حاکم) 11 اسی طرح کا دوسرا واقعہ ایک اور یہودی کا ہے۔حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی جس کا نام حجر حجرہ تھا۔اس نے رسول اللہ سے دینار قرض لینے تھے ان کا تقاضا کیا۔آپ نے اسے فرمایا کہ میرے پاس اس وقت دینے کے لئے کچھ نہیں ہے۔وہ کہنے لگا اے محمد ! میں بھی آپ کو چھوڑوں گا نہیں جب تک آپ مجھے یہ قرض ادا نہ کر دیں۔رسول اللہ فرمانے لگے اچھا میں تمہارے ساتھ ہی بیٹھتا ہوں۔پھر نبی کریم اس کے ساتھ بیٹھ رہے۔آپ نے اسی جگہ ظہر وعصر ، مغرب وعشاء اور فجر کی نماز پڑھی۔رسول کریم کے صحابہ اسے ڈرانے لگے حضور کو پتہ چل گیا آپ نے فرمایا تم اسے