اسوہء انسانِ کامل — Page 482
اسوہ انسان کامل 482 رسول اللہ کا غلاموں سے حسن سلوک بھجوایا۔یہ چلا گیا مگر محمد نے اسے پکڑ لیا اور عمیر نے بالآخر اسلام قبول کر لیا۔“ ( آرمسٹرانگ ) 7 غلاموں کی تدریجی آزادی کا یہ طریق نہایت مفید اور کارآمد ر ہاور نہ اگر ایک روز ہی تمام غلاموں کی آزادی کا اعلان کر دیا جاتا جس طرح امریکہ میں کیا گیا تو ان مقہور غلاموں کی رہائش اور معاش کے بے شمار نا قابل حل مسائل اٹھ کھڑے ہوتے۔اور یہ غلاموں پر احسان کی بجائے ظلم ہوتا کہ ایک ہی دن میں کئی عورتیں اور بچے بے خانماں اور بے آسرا ہو جاتے۔ان کے منہ کے لقے بھی ان سے چھن جاتے۔تاہم جب اور جہاں کثیر غلاموں کو آزاد کر ناممکن ہوا وہاں رسول کریم نے یہ بھی کر کے دکھایا چنانچہ غزوہ حنین میں بنو ہوازن کے چھ ہزار افراد قیدی ہوئے اور جب ان کے عزیز اور رشتہ دار نبی کریم سے آزادی کے طالب ہو کر آئے تو آپ نے سب کو ایک دن میں بغیر کسی معاوضہ کے احسان فرماتے ہوئے آزاد کر دیا، جو دنیا کی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے۔(بخاری) 8 غلاموں کے حقوق غلامی سے آزادی کی ان تمام تدبیروں کے باوجود جو غلام باقی رہ گئے تھے ان سے آپ نے کمال شفقت اور احسان کا سلوک کرنے کی تعلیم دی۔وہ معاشرہ جہاں غلاموں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جانتا تھا، وہاں آپ نے غلاموں کو آقا کے برابر لا کھڑا کیا اور انہیں اخوت کے مقدس اور مضبوط رشتہ میں باندھ دیا۔عرب لوگ غلاموں کو جانوروں کی طرح مارتے تھے۔رسول کریم نے اس بات سے سختی سے منع کیا۔فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جو اپنے خادموں کے لئے بہتر ہیں۔( بیشمی 9) ایک دفعہ ابو مسعود بدری اپنے غلام کو کسی بات پر مار رہے تھے۔نبی کریم نے دیکھا تو فرمایا ” اسے آزاد کرو۔اور انہوں نے وہ غلام آزاد کر دیا۔( مسلم ) 10 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خادم کے مالک پر تین حق ہیں۔اول یہ کہ جب وہ نماز پڑھ رہا ہو تو اسے جلدی نہ ڈالے۔دوسرے کھانا کھاتے ہوئے اسے کھانے سے نہ اُٹھائے اور تیسرے اسے بھوکا نہ رکھے بلکہ سیر کر کے کھانا کھلائے۔( پیشمی ) 11 نبی کریم نے حضرت ابوذر کو ایک غلام دیا اور فرمایا اس کا خاص خیال رکھنا۔ابوذر نے اسے آزاد کر دیا۔بعد میں حضور نے ان سے پوچھا کہ تمہارے غلام کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ آپ نے جو ارشاد فرمایا تھا کہ اس سے حسن سلوک کرنا، میں نے اسے آزاد کر دیا ہے۔رسول کریم نے حضرت علی اور حضرت فاطمہ کو ایک غلام دیا اور فرمایا میں نے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے تم لوگ اس سے اچھا سلوک کرنا۔(بیشمی )12 ایک شخص نے آنحضرت کی خدمت میں عرض کیا کہ میرا خادم بہت غلطیاں کرتا ہے اور زیادتی کا مرتکب ہوتا ہے کیا میں اسے سزا دے لیا کروں؟ حضور نے فرمایا کہ اپنے خادم سے دن میں ستر دفعہ تک عفو کا معاملہ کرو۔(بیشمی ) 13