اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 481 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 481

اسوہ انسان کامل 481 رسول اللہ کا غلاموں سے حسن سلوک "In pursuance of Mahomet's commands, the citizens of Medina, and such of the refugees as already had houses of their own, received the prisoners, and treated them with much consideration۔'Blessings be on the men of Medina!'said one of these prisoners in later days: 'they made us ride, while they themselves walked: they gave us wheaten bread to eat when there was little of it, contenting them selves with dates۔' It is not surprising that when, some time afterwards, their friends came to ransom them, several of the prisoners who had been thus received declared themselves adherents of Islam; and the such the Prophet granted liberty without ransom۔" محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی حکومت میں اہالیانِ مدینہ اور وہ مہاجرین جنہوں نے یہاں اپنے گھر بنا لئے تھے کے پاس جب (بدر کے قیدی آئے تو انہوں نے ان سے نہایت عمدہ سلوک کیا۔بعد میں خود ایک قیدی کہا کرتا تھا کہ اللہ رحم کرے مدینہ والوں پر۔وہ ہمیں سوار کرتے تھے اور خود پیدل چلتے تھے۔ہمیں کھانے کے لئے گندم کی روٹی دیتے تھے جس کی اس زمانہ میں بہت قلت تھی اور خود کھجوروں پر گزارا کرتے تھے۔اس لحاظ سے یہ بات تعجب خیز نہیں ہونی چاہئے کہ بعد میں جب ان قیدیوں کے لواحقین فدیہ لے کر انہیں آزاد کروانے آئے۔ان میں سے کئی قیدیوں نے مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا اور ایسے تمام قیدیوں کو رسول اللہ نے فدیہ لئے بغیر آزاد کر دیا۔“ ( میور )6 اسی طرح سابق عیسائی راہبہ پروفیسر کیرن آرمسٹرانگ نے اپنی کتاب ”محمد“ میں لکھا:۔"Some of the prisoners were so impressed by life in the umma that they converted to Islam۔Perhaps the most dramatic of these conversions was that of Umayr ibn Wahb (who had tried to persuade the Quraysh not to fight at Badr)۔Ummayah persuaded him to go back to Medina and assassinate Muhammad۔He did go back but Muhammad caught him out and Umayr became a Muslim instead۔" و بعض قیدی مسلمانوں میں زندگی گزارنے کے بعد اتنے متاثر تھے کہ وہ مسلمان ہو گئے۔ان اسلام قبول کرنے والوں میں سب سے زیادہ حیران کن واقعہ عمیر بن وھب کا تھا ( جس نے قریش کو بدر میں لڑائی نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا ) جب وہ مکہ واپس لوٹا تو اس کے قبیلہ کے سردار اور دوست صفوان بن امیہ نے محمد کو قتل کرنے کے لئے اسے واپس مدینہ