اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 483 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 483

483 رسول اللہ کا غلاموں سے حسن سلوک اسوہ انسان کامل معرور بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابوذر سے ربذہ مقام پر ملا۔انہوں نے بھی ایک پوشاک زیب تن کی ہوئی تھی اور ان کے غلام نے بھی ویسی ہی پوشاک پہنی تھی۔( آقا و غلام میں مساوات کا یہ عالم دیکھ کر تجب سے ) میں نے اس بارہ میں سوال کیا۔تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میں نے ایک دفعہ ایک شخص کو گالی دی تھی ( جو اغلبا غلام تھا ) حضور نے سن کر فرمایا اے ابوذر! کیا تم نے اسے ماں کی گالی دی ہے۔بلاشبہ یہ تم نے جاہلیت کی بات کی ہے (یاد رکھو) تمہارے غلام تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے ماتحت کر دیا ہے۔جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو وہ اُسے اس میں سے کھلائے جس میں سے وہ خود کھاتا ہے۔اور ویسا ہی لباس پہنائے جیسا خود پہنتا ہے۔اور ان کو ایسے کام کرنے کے لئے نہ کہو جو ان کی طاقت سے باہر ہوں۔اور اگر کوئی ایسا مشکل کام کہہ دو تو پھر خود ان کی مدد کرو۔( بخاری )14 دوسری روایت میں تصریح ہے ابوذر اور انکے غلام کی چادر ایک جیسی تھی ( تہبند دونوں کے مختلف تھے ) معرور نے ان سے کہا کہ اے ابوذر اگر آپ اپنے غلام کی چادر لے کر اپنا تہبند بناتے تو آپ کی پوری پوشاک بن جاتی اور غلام کو آپ کوئی اور کپڑا دے دیتے۔ابوذر نے کہا میں نے ایک دفعہ ایک شخص کو ( جو غلام تھا ) جس کی ماں عجمی تھی ماں ( کی عجمیت ) کا طعنہ دیا تو اس نے حضور کے پاس میری شکایت کردی۔آپ نے فرمایا یہ بھی تمہارے بھائی ہیں جن پر اللہ نے تمہیں فضیلت دی ہے۔پس جس کو اس کا غلام موافق نہ ہوا سے بیچ دو اور اللہ کی مخلوق کو عذاب نہ دو۔(ابوداؤد ) 15 ایک اور موقع پر نبی کریم نے فرمایا کہ خادم یا غلام جب کھانا لائے اُسے بھی ساتھ بٹھا کر اس میں سے کھلا ؤ اگر وہ نہ مانے تو کچھ کھانا ہی دید و کہ اس نے کھانا تیار کرتے ہوئے گرمی اور دھواں کھایا ہے۔(ابن ماجہ ) 16 پھر فرمایا تم ان غلاموں کی اپنی اولاد کی طرح عزت کرو اور جو خود کھاتے ہو اس میں سے ان کو کھلا ؤ۔( بخاری ) 17 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلاموں کی عزت نفس قائم کرنے کیلئے ایک انسان ہونے کے ناطہ سے ان کی تکریم کی ہدایت کی اور فرمایا کہ انہیں میرا غلام یا میری لونڈی کہہ کر نہ پکارا کرو۔بلکہ نو جوان یالڑ کی کہہ کر بلایا کرو۔( تا کہ ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو )۔( بخاری ) 18 نبی کریم نے غلاموں کے حقوق کا بھی تحفظ فرمایا۔اسلام سے پہلے غلام کو طلاق کا اختیار نہیں ہوتا، آپ نے غلام کا یہ حق بھی قائم فرمایا۔( ابن ماجہ )19 غلاموں سے محبت حضرت زید بن حارثہؓ حضرت ام المومنین خدیجہ کے غلام تھے ، جو انہوں نے نبی کریم کی خدمت کیلئے پیش کر دیئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد کر کے اپنا منہ بولا بیٹا بنالیا اور اس قدرشفقت اور محبت کا سلوک فرمایا کہ جب زیڈ کے حقیقی والدین ان کو لینے کیلئے آئے تو باوجود یکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو اختیار دے دیا کہ آپ والدین کے ساتھ واپس وطن جانے کیلئے آزاد ہومگر زیڈ نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔اور بزبان حال ثابت کیا کہ ہزار آزادی رسول اللہ کی غلامی پر قربان ہے۔نبی کریم نے عربوں کے دستور کے خلاف معزز قبیلہ قریش کی خاتون اپنی