اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 470 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 470

470 نبی کریم کا حسن معاشرت بحیثیت دوست و پڑوسی اسوہ انسان کامل آپ اکثر یہ دعا کرتے تھے اے اللہ مجھے مسکین ہونے کی حالت میں زندہ رکھنا اسی حالت میں موت دینا اور قیامت کے روز بھی مجھے مساکین کی جماعت سے اُٹھانا۔(ترمذی)7 حضرت عثمان نے ایک دفعہ اپنے خطبہ میں بیان فرمایا کہ خدا کی قسم ہم رسول کریم کی صحبت میں رہے سفر میں بھی اور حضر میں بھی۔آپ ہمارے مریضوں کی عیادت فرماتے ، ہمارے جنازوں میں شامل ہوتے اور ہمارے ساتھ جہاد میں خود شامل ہوتے تھے نیز کم یا زیادہ سے ہماری غمخواری اور مددفرماتے تھے۔(احمد) 8 رسول کریم نے اخوت اور دوستی کے بھی نئے آداب سکھائے آپ نے فرمایا کسی کے لئے جائز نہیں کہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرے۔کبھی ایسا نہ ہو کہ وہ دونوں دوست با ہم ملیں تو ایک ادھر منہ پھیر لے اور دوسرا اُس طرف رُخ کر لے ان دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرتا ہے۔( بخاری ) رسول کریم ساتھیوں کے جذبات کا بہت خیال رکھتے تھے۔فرمایا ” جب تین ساتھی اکٹھے ہوں تو ان میں سے دو تیسرے کو چھوڑ کر الگ سرگوشی میں بات نہ کریں کیونکہ اس سے تیسرے ساتھی کی دل آزاری ہوگی۔‘‘ ( بخاری )10 رسول کریم نے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے ہوئے ان کے حق کا خیال رکھنے کی بھی تلقین فرمائی۔چنانچہ کھجور کھاتے ہوئے دو دو کھجوریں اکٹھی کھانے سے منع فرمایا۔( بخاری )11 وفا ایک قیمتی جو ہر ہے۔رسول کریم نے فرمایا کہ جو خدا کے بندوں کے احسانات کی قدر دانی نہیں کرتا وہ خدا کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔حقیقت یہ ہے وہ لوگ جو اپنے مولیٰ کے ساتھ وفا کے بے نظیر نمونے قائم کر کے دکھاتے ہیں انسانوں کے ساتھ تعلق اور دوستی میں ان سے بڑھ کر کوئی باوفا نہیں دیکھا گیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق جس سے بھی قائم ہوا آپ نے ہمیشہ اس کا لحاظ رکھا۔حق ہمسائیگی کا بھی آپ ہمیشہ خیال رکھتے۔فرماتے تھے کہ ”جبریل نے مجھے ہمسایہ سے حسن سلوک کی اس قدر تلقین کی یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ وہ ہمسایہ کو شاید حق وراثت میں بھی شامل کرنے کی ہدایت کریں گے۔( بخاری )12 اسی طرح آپ نے فرمایا کہ کسی کے حسن و قبح کا معیار اس کا ہمسایوں سے سلوک ہے۔اگر تمہارے ہمسائے یہ کہیں کہ تم اچھے ہوتو واقعی تم اچھے ہو اور اگر ہمسائے کہیں کہ تم برے ہو تو واقعی تم بڑے ہو۔“ ( ابن ماجہ )13 نبی کریم نے بحیثیت دوست بھی اعلیٰ درجے کا نمونہ وفا دکھایا۔حضرت ابوبکر آپ کے ابتدائی زمانہ کے ساتھی تھے۔ایک دفعہ حضرت عمر کے ساتھ ان کی تکرار ہو گئی۔نبی کریم کو پتہ چلا تو حضرت عمر سے اظہار ناراضگی کرتے ہوئے فرمایا کہ ”تم لوگ میرے ساتھی کو میرے لئے چھوڑو گے یا نہیں؟ ابوبکر وہ ہے جس نے اس وقت میری مدد کی جب سب نے انکار کیا۔( بخاری )14