اسوہء انسانِ کامل — Page 469
اسوہ انسان کامل 469 نبی کریم کا حسن معاشرت بحیثیت دوست و پڑوسی نبی کریم کا حسن معاشرت بحیثیت دوست و پڑوسی انسانی معاشرہ افراد کے مجموعہ کا نام ہے۔جو میل جول اور باہمی تعلقات کے بغیر پروان نہیں چڑھ سکتا۔اگر ہر انسان اپنے قریبی ماحول میں بسنے والے لوگوں کے معاشرتی حق ادا کرنے کا سلیقہ سیکھ لے تو کوئی فتنہ اور فساد پیدا نہ ہو اور دنیا امن کا گہوارہ بن جائے۔رسول کریم نے ایک مسلمان بھائی اور دوست کا کم از کم حق یہ بیان فرمایا کہ مومن وہ ہے جس سے دوسرے لوگ امن میں رہیں اور مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔(حاکم)1 پھر آپ نے فرمایا کہ باہمی محبت و الفت ایک دوسرے کے ساتھ شفقت سے پیش آنے میں مومنوں کی مثال ایک جسم کی طرح ہے۔جسم کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔(احمد 2 ) اسی طرح فرمایا ” اس وقت تک کوئی مومن نہیں ہو سکتا۔جب تک اپنے بھائی کے لئے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔‘ ( احمد )3 پھر آپ نے تمام مومنوں کو دوستی سے مضبوط تر تعلق اسلامی اخوت کے دائرہ میں شامل کیا اور فرمایا کہ تم جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک ایمان نہ لاؤ اور مومن نہیں ہو سکتے جب تک ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔(مسلم) 4 آپ نے ایک مومن بھائی کے دوسرے مسلمان پر کچھ حق قائم کئے اور فرمایا۔”مومن کے مومن پر کچھ حق ہیں جب وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے۔جب فوت ہو تو جنازہ میں شامل ہو۔وہ بلائے تو اسے جواب دے جب اس سے ملے تو سلام کرے جب اسے چھینک آئے تو اسے دعا دے۔اور اس کی غیر موجودگی میں اس کی خیر خواہی کرے۔(نسائی)5 نبی کریم نے اس لئے قیام امن کا سبق پہلے ایک فرد سے اور پھر گھر سے شروع کیا۔ایک فرد کے ساتھ تعلق میں دوستی کے حقوق ایک دوسرے پر قائم ہوتے ہیں اور ایک گھر کے تعلق میں ہمسائیگی کا حق قائم ہوتا ہے۔رسول کریم کے جب اور جہاں بھی یہ تعلق قائم ہوئے آپ نے خوب نبھائے اور ان کا حق ادا کر کے دکھایا۔آپ کی دوستی کمزور اور غریب لوگوں سے زیادہ ہوتی۔فرماتے تھے ” مجھے اپنے کمزور لوگوں میں تلاش کیا کرو اور یا درکھو تمہیں تمہارے کمزور محنت کش لوگوں کی وجہ سے ہی رزق ملتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔“ ( ترمذی )6