اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 437 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 437

437 رسول کریم کی بچوں اور اولاد سے پدرانہ شفقت اسوہ انسان کامل حضرت رقیہ کے اکلوتے بیٹے عبداللہ دو سال کی عمر میں چہرے پر مرغ کے چونچ مارنے سے زخمی ہو کر وفات پاگئے تھے نبی کریم نے عبد اللہ کا جنازہ خود پڑھایا۔(ابن سعد )44 حضرت ام سلمہ سے روایت ہے رسول اللہ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ تشریف لائیں ان کے صاحبزادے حسن حسین ہمراہ تھے۔حضرت فاطمہ ہنڈیا میں کچھ کھانا حضور کے لئے لائی تھیں، وہ آپ کے سامنے رکھا۔آپ نے پوچھا ابوالحسن یعنی حضرت علی کہاں ہیں حضرت فاطمہ نے عرض کیا کہ گھر میں ہیں۔حضور نے ان کو بلا بھیجا اور پھر سب اہل بیت بیٹھ کر کھانا کھانے لگے۔حضرت اُم سلمہ بیان کرتی ہیں کہ رسول کریم نے کھانے سے فارغ ہو کر ان اہل بیت کے حق میں یہ دعا کی اے اللہ ! جوان اہل بیت کا دشمن ہو تو اس کا دشمن ہو جا اور جوانہیں دوست رکھے تو اسے دوست رکھنا“۔( ھیثمی )45 حضرت فاطمہ کی اولا د سے بھی نبی کریم کو بہت محبت تھی۔حضرت براء بن عازب کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم کو دیکھا حضرت حسنؓ آپ کے کندھے پر تھے اور فرمارہے تھے ” اے اللہ ! اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔“ (بخاری)46 ایک دفعہ رسول کریم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ حسن اور حسین آگئے انہوں نے سرخ قمیص پہنے تھے اور چلتے ہوئے ٹھوکریں کھا رہے تھے رسول کریم منبر سے اتر آئے اور انکو اٹھا لیا ، اپنے سامنے بٹھایا اور فرمایا اللہ نے سچ فرمایا ہے کہ تمہارے مال اور اولاد تمہارے لئے فتنہ ہے۔میں نے ان دونوں بچوں کو چلتے اور گرتے دیکھا تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے اپنی بات روک کر ان کو اٹھالایا۔“ ( ترندی ) 47 حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ہمارے ہاں تشریف لائے۔میں لیٹا ہوا تھا۔حضرت حسنؓ اور حضرت حسین نے پینے کیلئے کچھ مانگا۔حضوراً ٹھے، ہمارے گھر میں ایک بکری تھی جس کا دودھ دوہا جا چکا تھا۔آپ اس کا دودھ دوہنے لگے تو دوبارہ بکری کو دودھ اتر آیا۔حسن حضور کے پاس آئے تو حضور نے اُن کو پیچھے ہٹا دیا اور اُن کی بجائے حسین کو دودھ دیا۔حضرت فاطمہ نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ آپ کو زیادہ پیارا ہے۔آپ نے فرمایا نہیں دراصل پہلے دودھ اس نے مانگا تھا۔( ھیثمی )48 دوسری روایت میں ذکر ہے کہ حسنؓ نے پہلے مانگا اور حسین پہلے لینے کی ضد کرتے ہوئے رونے لگے تو نبی کریم نے پہلے حسن کو دیا اور حضرت فاطمہ کے سوال پر کہ یہ آپ ﷺ کو زیادہ پیارا ہے۔فرمایا ”دونوں میرے لئے برابر ہیں۔“ (حیمی )49 حضرت ابوبکر سے روایت ہے کہ رسول اللہ نماز پڑھتے ہوئے جب سجدہ میں جاتے تھے تو بعض دفعہ حضرت حسنؓ آپ کی پشت یا گردن پر چڑھ جاتے۔حضور بہت نرمی سے ان کو پکڑ کر اتارتے تاکہ گر میں نہیں۔صحابہ نے عرض کیا یا