اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 438 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 438

اسوہ انسان کامل 438 رسول کریم کی بچوں اور اولاد سے پدرانہ شفقت رسول اللہ حضرت حسن کے ساتھ آپ جس طرح محبت سے پیش آتے ہیں ایسا سلوک کسی اور کے ساتھ نہیں کرتے۔فرمایا یہ دنیا سے میری خوشبو ہے۔میرا یہ بیٹا سردار ہے جو دو گروہوں میں صلح کروائے گا۔ایک اور روایت میں ہے کہ حضور سجدے کی حالت میں تھے کہ حسن پشت پر آکر بیٹھ گئے آپ نے اُن کو نہیں اتارا اور سجدے میں رہے یہاں تک کہ وہ خود اترے۔(احمد) 50 حضرت ماریہ قبطیہ کے بطن سے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو فرزند عطا فرمایا۔اس کا نام آپ نے ابراہیم اپنے جد امجد کے نام پر رکھا۔حضور کے نواسوں حسن و حسین سے بھی کم سن تھے۔آخری عمر کی اس اولاد سے آپ بے حد محبت فرماتے تھے۔اس بچے کو پرورش کیلئے ام سیف کے سپرد کیا گیا۔نبی کریم ان کے گھر گاہے بگاہے بچے سے ملاقات کرنے اور حال دریافت کرنے تشریف لے جاتے تھے۔ابراہیم کو اپنی گود میں لے کر پیار کرتے۔اُسے چومتے اور اپنے ساتھ چمٹا لیتے۔( بخاری )51 کم سنی میں اس بچے میں اعلیٰ صلاحیتوں کے جو ہر دیکھ کر آپ خوش ہوتے تھے۔رسول اللہ کا یہ جگر گوشہ 16 ماہ کی عمر میں اللہ کو پیارا ہو گیا۔اس کی وفات پر اس کی خداداد صلاحیتوں کے بارہ میں فرمایا کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو سچانبی ہوتا۔“ ( ابن ماجہ )52 اس پیارے بیٹے کی جدائی پر آپ نے کمال شان صبر دکھائی۔ابراہیم کا جنازہ دیکھ کر آپ کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ایک صحابی نے عرض کیا حضور آپ بھی روتے ہیں۔فرمایا یہ تو اولاد سے محبت کا جذبہ ہے کہ آنکھ آنسو بہاتی ہے دل غمگین ہے مگر ہم کوئی ایسی بات نہیں کہیں گے جس سے ہمارا رب ناراض ہو اور اے ابراہیم سچی بات تو یہ ہے کہ تیری جدائی پر ہم بہت غمگین ہیں۔‘ ( بخاری )53 اتفاق سے صاحبزادہ ابراہیم کی وفات پر سورج گرہن بھی ہوا۔لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ رسول اللہ کے اتنے عظیم الشان بیٹے کی وفات پر سورج بھی گہنا گیا ہے۔رسول کریم سے بڑھ کر صاحبزادہ ابراہیم سے کسے محبت ہو سکتی تھی مگر آپ نے یہ حق بات کھول کر بیان فرما دی کہ چاند اور سورج اللہ کے نشانات میں سے ہیں۔کسی کی موت یا پیدائش پر ان کو گرہن نہیں لگا کرتا۔البتہ اس نشان کو دیکھ کر اللہ سے ڈرتے ہوئے صدقہ وغیرہ دینا چاہئے۔( بخاری )54 الغرض نبی کریم نے بحیثیت باپ اولاد سے حسن سلوک اور حسنِ تربیت کے لئے بہترین اور خوبصورت نمونہ پیش کیا ہے، جو ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔