اسوہء انسانِ کامل — Page 433
433 رسول کریم کی بچوں اور اولاد سے پدرانہ شفقت اسوہ انسان کامل انسان عثمان بن مظعون کے ساتھ جنت میں جا کر ا کٹھے ہو جاؤ۔یہ سن کر عورتیں رو پڑیں، حضرت عمرؓ انہیں روکنے لگے۔حضور نے فرمایا "رونا منع نہیں مگر شیطانی آوازیں نکالنے یعنی بین کرنے سے بچو۔پھر آپ نے فرمایا وہ دکھ جو آنکھ اور دل سے ظاہر ہو وہ اللہ کی طرف سے ایک پیدا شدہ جذبہ ہے اور رحمت اور طبعی محبت کا نتیجہ ہے اور جو ہاتھ اور زبان سے ظاہر ہو وہ شیطانی فعل ہے۔“ ( احمد ) 24 حضرت رقیہ سے حسن سلوک دوسری صاحبزادی حضرت رقیہ کا نکاح نبی کریم نے اپنے بہت عزیز صحابی حضرت عثمان بن عفان سے فرمایا اور نصیحت فرمائی کہ عثمان کا خاص خیال رکھنا وہ اپنے اخلاق میں دیگر اصحاب کی نسبت زیادہ میرے مشابہ ہیں۔چنانچہ ایک دفعہ حضور صاحبزادی رقیہ کے ہاں گئے تو وہ حضرت عثمان کا سر دھورہی تھیں۔(کنز )25 حضرت رقیہ نے حضرت عثمان کے ساتھ حبشہ ہجرت کی تھی۔جب کچھ عرصہ ان کی کوئی خبر نہ آئی تو رسول کریم حبشہ سے آنے والے لوگوں سے فکر مندی کے ساتھ اپنی صاحبزادی اور داماد کا حال دریافت فرماتے تھے۔ایک قریشی عورت نے آکر بتایا کہ اُس نے حضرت عثمان کے ساتھ حضرت رقیہ کو خچر پر سوار جاتے دیکھا تھا۔رسول اللہ نے دعا کی کہ اللہ ان دونوں کا حامی و ناصر ہو۔( ابن اثیر ) 26 غزوہ بدر کے موقعہ پر رقیہ بیمار ہوگئیں اور نبی کریم نے حضرت عثمان کو اپنی صاحبزادی کی تیمارداری کے لئے مدینہ رہنے کی ہدایت فرمائی اور بدر میں فتح کے بعد مال غنیمت سے اُن کا حصہ بھی نکالا۔( بخاری ) 27 نبی کریم کی ایک لونڈی ام عیاش تھی۔جو حضور کو وضو وغیرہ کرواتی تھیں۔حضور نے بطور خادمہ یہ لونڈی حضرت رقیہ کی شادی کے وقت گھریلو کام کاج میں اُن کی مدد کے لئے ساتھ بھجوائی تھی۔( ابن ماجہ )28 حضرت رقیہ کی وفات حصہ میں ہوئی۔حضور یے کو ان کی وفات کا بہت صدمہ تھا حضرت انس کہتے ہیں کہ حضرت رقیہ کے جنازے میں رسول کریم ان کی قبر کے پاس بیٹھے آنسو بہا رہے تھے۔( بخاری ) 29 رسول کریم اپنی صاحبزادی فاطمہ کو لے کر حضرت رقیہ کی قبر پر آئے تو فاطمہ قبر کے پاس رسول کریم کے پہلو میں بیٹھ کر رونے لگیں۔رسول اللہ ولا سادیتے ہوئے اپنے دامن سے ان کے آنسو پونچھتے جاتے تھے۔( بیھقی ) 30 حضرت ام کلثوم سے شفقت ہجرت مدینہ کے بعد نبی کریم ﷺ نے صاحبزادی ام کلثوم کو مدینے بلوانے کے لئے حضرت زید بن حارثہ اور ابورافع کو دواونٹ اور پانچ صد درہم دے کر کے بھجوایا تا کہ وہ حضور ﷺ کی صاحبزادیوں کو آپ کے پاس مدینہ لے آئیں۔(ابن سعد ) 31