اسوہء انسانِ کامل — Page 386
اسوہ انسان کامل 386 غزوات النبی میں خلق عظیم حیران و ششدر یہ کہتے ہوئے واپس قلعوں کی طرف دوڑے مُحَمَّد وَالخَمِيسِ وَاللهِ مُحَمَّد وَالْخَمِيس - (بخاری) 51 یعنی محمد اور اس کا پانچ دستوں والا لشکر۔خدا کی قسم محمد اور پانچ دستوں والا لشکر ( آن پہنچا )۔رسول اللہ زبر دست حیرانی اور سرپرائز (Surprise) دے کر ایک اور فتح حاصل کر چکے تھے۔عارفانہ نعرے اب نعرے لگانے اور خدا کا نام بلند کرنے کا وقت تھا اور اس عارفانہ نعرہ کے پہلے حقدار میرے آقائے نامدار نبیوں کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔سو آپ نے خیبر کی وادیوں میں بآواز بلند یہ نعرہ لگایا۔اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِين - ( بخاری ) 52 یعنی اللہ سب سے بڑا ہے۔خیبر ویران ہو گیا اور ہم جب کسی قوم کو تنبیہ اور ہوشیار کر دینے کے بعد اس کے میدان میں اترتے ہیں تو اس کی صبح نامبارک صبح ہوا کرتی ہے۔رسول اللہ کے اس واشگاف اعلان سے آپ کی یہ امتیازی شان ظاہر ہے کہ آپ دشمن پر بغیر مناسب اختباہ وانذار ( وارنگ اور الٹی میٹم) کے حملہ نہ کرتے تھے۔بے شک آپ دشمن کو حالت جنگ میں جنگی حکمت عملی کے طور پر اچانک حملہ آور ہو کر حیران و ششدر تو کر دیتے تھے لیکن شب خون سے منع فرماتے تھے۔آپ کا یہ خلق عظیم حیرت انگیز ہے کہ دشمن کے سر پر پہنچ کر بھی دن کی روشنی کا انتظار کرتے ہیں۔حضرت عرباض بن ساریہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ کے ساتھ غزوہ خیبر میں شریک تھے۔حاکم خیبر درشت رو اور بے لحاظ انسان تھا۔( فتح کے بعد ) اس نے رسول اللہ کے پاس آکر کہا اے محمد ! کیا تم لوگوں کو حق پہنچتا ہے کہ ہمارے جانور ذبح کرو، ہمارے پھل کھاؤ اور ہماری عورتوں کو مارو۔نبی کریم یہ سن کر بہت ناراض ہوئے اور عبدالرحمان بن عوف سے فرمایا کہ آپ گھوڑے پر سوار ہو کر یہ اعلان کریں کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہو نگے نیز لوگوں کو نماز کے لئے جمع کیا جائے۔جب وہ اکٹھے ہو گئے تو آپ نے صحابہ سے خطاب فرمایا کیا تم میں کوئی تکیہ پر ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ نے سوائے اس کے جو قرآن میں ہے، کوئی چیز حرام نہیں کی۔سنو میں نے بھی کچھ احکام دیئے ہیں اور بعض باتوں سے روکا ہے وہ بھی قرآن کی طرح ہی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے جائز نہیں رکھا کہ تم اہل کتاب کے گھروں میں بلا اجازت داخل ہو۔نہ ہی ان کی عورتوں کو مارنے کی اجازت دی ہے اور نہ ان کے پھل کھانے کی۔جب (معاہدہ کے مطابق ) وہ تمہیں وہ کچھ دے رہے ہوں جوان کے ذمہ ہے یعنی جزیہ۔(ابوداؤد ) 53 جرنیل۔۔۔سپاہیوں کے ساتھ فتح خیبر سے واپسی پر پڑاؤ خیبر سے تین میل ادھر صہباء مقام پر ہوا۔یہاں نماز عصر کے بعد حضور نے کھانا طلب فرمایا