اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 387 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 387

اسوہ انسان کامل 387 غزوات النبی میں خلق عظیم اور اپنے سپاہیوں سے فرمایا کہ جس کے پاس جو زاد راہ ہے وہ لے آئے۔ہم سب مل کر کھانا کھائیں گے۔دستر خوان بچھائے گئے اور کھانا چنا گیا۔ہمارے آقا کا وہ کھانا کیا تھا ؟ جو کے ستو اور کچھ کھجور میں جو آپ نے اپنے خدام کے ساتھ مل کر تناول فرما ئیں۔( بخاری 54) یہ نظارہ کتنا دلکش ہے جس میں آقاپنے غلاموں کے ساتھ کمال سادگی، انکساری اور بے تکلفی سے ستو اور کھجور کاما حضر تناول کرتا نظر آتا ہے۔فتح مکہ میں ظاہر ہونے والے خلق عظیم قریش مکہ کے لشکر بدر اور احد میں مدینے کے گنتی کے چند مجبور اور نہتے مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے۔پھر جنگ احزاب میں تو سارا عرب مسلمانان مدینہ پر چڑھ آیا اور اہل مدینہ نے شہر کے گرد خندق کھود کر اور اس میں محصور ہو کر جائیں بچا ئیں۔آپ ہمیشہ دفاع ہی کرتے رہے۔خانہ کعبہ کے حقیقی متولی مسلمانوں کو یہ اجازت بھی نہ تھی کہ وہ خدا کے گھر کا طواف ہی کر سکیں۔چنانچہ 6 ھ میں چودہ سو مسلمانوں کو جو طواف بیت اللہ کی غرض سے مکہ جارہے تھے حدیبیہ سے واپس لوٹا دیا گیا۔اسی موقع پر معاہدہ صلح کی شرائط طے ہوئیں۔صلح کا شہزادہ فتح مکہ کے موقع پر ایک دفعہ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خلق عظیم پر فائز ہونے کی بے نظیرشان دنیا نے دیکھی۔ہر چند کہ قریش مکہ نے صلح حدیبیہ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے حلیف بنی خزاعہ پر شب خون مار کر معاہدہ توڑ دیا۔پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش سے صلح کی طرح ڈالتے نظر آتے ہیں۔چنانچہ آپ نے معاہدہ شکنی کرنے والوں کی طرف اپنا سفیر تین شرائط میں سے کسی ایک شرط پر صلح کی پیشکش کے ساتھ بھیجا کہ ہمارے حلیف خزاعہ کے مقتولوں کا خون بہا ادا کر دو یا بنوبکر کی طرف داری سے الگ ہو جاؤ یا حدیبیہ کی صلح توڑنے کا اعلان کر دو۔مسلمانوں کے اس سفیر کو جواب ملا کہ ہم حدیبیہ کی صلح توڑتے ہیں۔( زرقانی) 55 سفر مکہ میں راز داری کے لئے تدبیر اور دُعا رازداری کی حکمت عملی کا مقصد قریش مکہ کو تیاری کا موقع نہ دیگر از راہ احسان انہیں کشت وخون سے بچانا تھا۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کمال حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے نواح مدینہ میں یہ پیغام بھجوایا کہ اس دفعہ کا رمضان مدینہ میں گزاریں اور اہل مدینہ کو سفر کی تیاری کی ہدایت فرمائی۔لیکن یہ ظاہر نہ فرمایا کہ کہاں کا قصد ہے۔ایک لشکر جرار کی تیاری اور نقل و حرکت راز داری میں رکھنا بظاہر ایک ناممکن امر تھا۔لیکن رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہر کٹھن مرحلہ کیلئے دعا اور تدبیر کو کام میں لاتے تھے۔آپ نے اپنے رب کے حضور دعا کی اللَّهُمَّ خُذِ الْعُيُونَ وَالْأَخْبَارَ عَنْ قُرَيشِ کہ اے اللہ قریش کے جاسوسوں کو روک رکھ اور ہماری خبریں ان تک نہ پہنچیں اور تدبیر یہ فرمائی