اسوہء انسانِ کامل — Page 385
اسوہ انسان کامل 385 غزوات النبی میں خلق عظیم مرہم پٹی، تیمار داری اور دیکھ بھال کیلئے ساتھ چلنے کی اجازت فرمائی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس پاکیزہ خیال کو ایک فرانسیسی عیسائی سوانح نگار یوں بیان کرتا ہے کہ شاید تاریخ میں یہ پہلا موقعہ تھا کہ کسی لشکر کے ساتھ عورتیں نرسنگ کی خدمات اور زخمیوں کی دیکھ بھال کیلئے شامل ہو ئیں ، ورنہ اس سے پہلے جنگ میں عورت سے تحریض جنگ اور حفظ نفس کے سوا کوئی کام نہیں لیا جاتا تھا۔عورت سے درست اور جائز خدمات لینے کے بارہ میں اب تک کسی نے نہ سوچا تھا کہ میدان جنگ میں تیمارداری اور بیماروں کی دیکھ بھال کی بہترین خدمت عورت انجام دے سکتی ہے۔“ ( حیات محمد ) 49 خاموش حکمت عملی قریباً ڈیڑھ سو میل کا فاصلہ تین راتوں کے مسلسل تھکا دینے والے سفر میں بعجلت طے کر کے آنحضرت خیبر پہنچ گئے۔علی اصبح جب وادی خرص سے میدان خیبر میں داخل ہونے لگے تو صحابہ کرام نے بخیر و عافیت اپنی منزل پالینے کی خوشی میں نعرے بلند کرنے شروع کئے۔اس خاموش پیش قدمی میں اللہ اکبر اور لا اللهُ إِلَّا اللہ کے نعروں کا یہ شور خلاف مصلحت تھا، کیونکہ آنحضرت تو یہود خیبر کے پاس اچانک پہنچ کر انہیں حیران و ششدر اور مبہوت کرنا چاہتے تھے۔آپ نے صحابہ کو ان نازک لمحات میں موقع محل کی مناسبت سے کام کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا از بعوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبَ إِنَّكُمْ تَدْعُونَ سَمِيعًا قَرِيبًا وَهُوَ مَعَكُمْ ( بخاری 50 ) یعنی اللهُ أَكْبَرُ اور لَا إِلَهَ إِلَّا الله تو ذکر الہی کے کلے ہیں تم لوگ اپنے نفسوں پر رحم کرو اور آہستہ ذکر الہی کرو۔جسے تم پکارتے ہو وہ نہ بہرہ ہے نہ غائب بلکہ وہ خوب سنتا ہے۔وہ تمہارے قریب ہے اور تمہارے ساتھ ہے۔حضرت محمد مصطفیٰ" کی فصاحت و بلاغت کا کمال دیکھئے کہ اپنے دل کی بات ایسے خوبصورت انداز اور جامع الفاظ میں بیان فرمائی کہ مبادا کوئی کہے دشمن کے خوف سے خدا کا نام بلند کرنے سے روک دیا گیا۔فرمایا ہمارا خدا تو آہستہ ذکر بھی اسی طرح سنتا ہے جس طرح بلند - مصلحت وقت کا تقاضا آہستہ ذکر کا ہے اور اس وقت یہی عمل صالح ہے۔بلند بانگ نعرے خلاف حکمت اور ہلاکت کو دعوت دینے کے مترادف ہیں۔خیبر میں پڑاؤ کرتے ہوئے دوسری حکمت عملی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اختیار فرمائی کہ لشکر کو پانچ حصوں ( مقدمہ میمنہ، میسرہ ، قلب اور ساقہ ) میں تقسیم کر کے قلعہ ہائے خیبر کے سامنے میدان میں اس طرح پھیلا دیا کہ سرسری نگاہ میں وہ ایک لشکر جرار نظر آتا تھا اور اس حکمت عملی میں جو دراصل دشمن کو اچانک حیران و ششدر کر دینے اور بوکھلاہٹ (Surprize) دینے کا حصہ تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حیرت انگیز کامیابی حاصل ہوئی۔واقعہ یہ ہوا کہ صبح جب قلعوں کے دروازے کھلے اور یہودی اطمینان سے کھیتی باڑی اور کام کاج کیلئے کتیاں ، کدال، ٹوکریاں لے کر باہر نکلنے لگے تو اچانک مسلمانوں کے لشکر کو دیکھ کر ان کے ہوش اڑ گئے۔مدینہ سے منافقوں کے سردار عبد اللہ بن ابی نے تو انکو اطلاع دی تھی کہ مٹھی بھر مسلمان خیبر پر حملہ کرنے آرہے ہیں۔اب ایسا لشکر دیکھ کر وہ