اسوہء انسانِ کامل — Page 342
اسوہ انسان کامل 342 رسول اللہ کی حب الوطنی اہل وطن کے لئے دعائیں ہجرت مدینہ کے بعد بھی اپنے اہل وطن کی یاد اور محبت آپ کے دل میں باقی رہی آپ مسلسل ان کے لئے دعائیں کرتے تھے۔حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ساری رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے ہوکر یہ دعائیہ آیت پڑھتے رہے کہ اے اللہ ! اگر تو ان کفار کو عذاب دے تو آخر یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب اور حکمت والا ہے۔(نسائی) 7 گویا آپ حکیمانہ تدبیروں سے کفار اور اہل وطن پر غلبہ کے خواہشمند تھے بر بادی اور ہلاکت کی راہ سے نہیں۔ایک دفعہ آپ نے دعا کی کہ اے اللہ ! ان کفار کے خلاف میری اس طرح مدد کر جس طرح یوسف کی ان کے بھائیوں کے خلاف قحط سے مدد کی تھی۔( جب وہ مطیع ہو کر دربار یوسف میں حاضر ہو گئے تھے ) یہ دعا مقبول ہوئی اور مکہ میں اتنا سخت قحط پڑا کہ لوگ مردہ جانوروں کی ہڈیاں تک کھانے لگے۔بھوک کی وجہ سے لوگوں کی آنکھوں کے سامنے دھواں ہی دھواں چھا جاتا تھا۔کفار مکہ اس قحط سالی سے سخت خوف زدہ ہوئے وہ خوب جانتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق جس طرح خدا کے ساتھ ہے مخلوق کے ساتھ بھی ہے۔وہ محب وطن بھی بہت ہیں۔چنانچہ ابوسفیان نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اہل وطن کا واسطہ دے کر عرض کیا کہ اے محمد ! آپ کی قوم ہلاک ہو رہی ہے آپ ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ بارشیں ہوں اور قحط سالی دور ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے تو ابوسفیان کو احساس دلانے کے لئے فرمایا تم بڑے دلیر ہو۔میرے انکار کے نتیجہ میں ہی تو یہ عذاب آیا ہے اور اس خدائے واحد پر ایمان لانے کی بجائے تم عذاب ٹلوانے کی درخواست دعا کرتے ہو۔مگر پھر آپ کے دل میں اہل وطن کی محبت کا کچھ ایسا خیال آیا کہ آپ نے قحط سالی کے دور ہونے اور بارش کے لئے دعا کی اور یہ دعا ایسی مقبول ہوئی کہ بارشیں ہوئیں اور قحط دور ہو گیا۔مگر اہل مکہ پر جب خوشحالی کا دور آیا تو شرک ، بت پرستی اور مخالفت میں پھر مصروف ہو گئے۔یہ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے۔( بخاری )8 اس قحط کے دوران حضور نے مدینہ سے چندہ اکٹھا کر کے پانچ سو دینار بھی اہل مکہ کی امداد کے لئے بھجوائے تھے۔(السرخسی ) یا دوطن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے وطن مکہ سے جو گہری محبت تھی اس کا اندازہ اس واقعہ سے بھی خوب ہوتا ہے کہ جب غفار قبیلہ کا ایک شخص ہجرت کے بعد کے زمانہ میں مکہ سے مدینہ آیا یہ احکام نزول پردہ سے پہلے کا واقعہ ہے ) تو حضرت عائشہ نے اس سے پوچھا کہ مکہ کا کیا حال تھا اس نے کمال فصاحت و بلاغت سے بھر پور یہ جواب دیا کہ