اسوہء انسانِ کامل — Page 341
اسوہ انسان کامل 341 رسول اللہ کی حب الوطنی کہا جائے گا۔مگر ہمارے پیارے رسول نے تو خدا کی راہ میں یہ ظلم بھی راضی برضا ہو کر برداشت کیا۔پہلی وحی کے بعد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت خدیجہ اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے کر آئیں تو انہوں نے وحی کی ساری کیفیت سن کر کہا تھا یہ تو وہی فرشتہ ہے جو حضرت موسی پر اترا تھا۔کاش ! میں اس وقت جوان ہوتا جب تیری قوم تجھے اس شہر سے نکال دے گی۔ذرا سوچو اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کی کیا حالت ہوگی۔جب آپ کے لئے اپنے دیس اپنے پیارے وطن سے نکالے جانے کا تصور ہی تکلیف دہ تھا جس کا کچھ اندازہ آپ کے اس تعجب آمیز جواب سے ملتا ہے جو آپ نے فرمایا کہ آوَ مُخْرِجِيَّ هُمُ“ کیا میری قوم مجھے اپنے وطن سے نکال باہر کرے گی یعنی میرے جیسے بے ضرر بلکہ نفع رساں وجود کو جو ان کے لئے ہر وقت فکر مند اور دعا گو ہے دیس سے نکال دیا جائیگا۔یہ کیسے ممکن ہے؟ مگر ورقہ نے بھی ٹھیک ہی تو کہا تھا کہ پہلے جس کسی نے بھی ایسا دعویٰ کیا اس کے ساتھ یہی سلوک ہوتا آیا ہے۔آپ کے ساتھ بھی یہی ہوگا۔( بخاری 5) اور پھر وہی ہوا کہ وہ شاہ دو عالم جس کی خاطر یہ ساری کائنات پیدا کی گئی۔ان کو ایک دن اپنے وطن سے بے وطن کر دیا گیا۔ذرا سوچیں تو سہی وہ دن شاہ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم پر کتنا بھاری ہوگا ، جب آپ اپنے آبائی وطن مکہ کے ان گلی کو چوں سے نکل جانے پر مجبور کر دیئے گئے۔جس روز آپ مکہ سے نکلے ہیں اس روز آپ کا دل اپنے وطن مکہ کی محبت میں خون کے آنسو رور ہا تھا۔جب آپ شہر سے باہر آئے تو اس موڑ پر جہاں مکہ آپ کی نظروں سے اوجھل ہور ہا تھا آپ ایک پتھر پر کھڑے ہو گئے اور مکہ کی طرف منہ کر کے اسے مخاطب ہو کر فرمایا۔اے مکہ تو میرا پیارا شہر اور پیارا وطن تھا اگر میری قوم مجھے یہاں سے نہ نکالتی تو میں ہرگز نہ نکلتا۔“ ( احمد )6 یوں حسرت سے مکہ کو الوداع کہتے ہوئے آپ سفر ہجرت پر روانہ ہو گئے۔اللہ تعالیٰ کی بھی اپنے محبوب نبی کے دلی جذبات پر نظر تھی اس لئے اسے پہلے ہی ترک وطن کی قربانی کیلئے تیار کر رکھا تھا اور قبل از وقت یہ دعا سکھا دی تھی جس میں مکہ سے نکلنے کا ذکر بعد میں اور اس میں دوبارہ داخل ہونے کا ذکر پہلے کر کے تسلی دے دی تا دل کا بوجھ ہلکا ہو۔فرمایا:۔وَقُل رَّبِّ اَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِى مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطَنَا نَّصِيرًا ( بنی اسرائیل : 81 ) یعنی اے نبی تو یہ دعا کر کہ اے میرے رب مجھے نیک طور پر دوبارہ مکہ میں داخل کر اور نیک ذکر چھوڑنے والے طریق پر مکہ سے نکال اور اپنے پاس سے میرا کوئی مددگار مقرر کر دراصل یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حب وطن کا جذبہ ہی تھا جس کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے آپ کی دلی تسلی کے لئے یہ آیت اتاری۔إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ تَرَادُّكَ إِلى مَعَادِ (القصص: 86) کہ وہ خدا جس نے آپ پر قرآن فرض کیا ہے وہ آپ کو وطن میں ضرور واپس لائے گا۔سورہ بلد میں بھی اللہ تعالیٰ اپنے حبیب رسول کے شہر کی قسم کھا کر آپ کو دلاسا اور تسلی دلاتے ہوئے پیشگوئی فرماتا ہے کہ آپ ایک روز اس شہر مکہ میں ضرور برضرور داخل ہوں گے۔(سورۃ البلد : 2 )