اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 343 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 343

اسوہ انسان کامل 343 رسول اللہ کی حب الوطنی سر زمین مکہ کے دامن سرسبز و شاداب تھے اس کے چٹیل میدان میں سفید اذخر گھاس خوب جو بن پر تھی اور کیکر کے درخت اپنی بہار دکھا رہے تھے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ سنا تو آپ کو مکہ کی یاد آئی اور وطن کی محبت نے جوش مارا۔فرمایا ایسے دیس سے آنے والے ! بس بھی کرو اور ہمارے وطن مکہ کی یاد میں تازہ کر کے اتنا بھی دل کو نہ دکھاؤ۔دوسری روایت میں ذکر ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا تو نے دلوں کو ٹھنڈا کر دیا۔“ ( سخاوی ) 10 امن کا سفیر حدیبیہ کے موقعہ پر بھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت شرائط کے مقابل پر نرمی اور صلح کی راہ اختیار کی تو اس کی ایک وجہ یہی تھی کہ جنگ و جدل کے نتیجہ میں اہل وطن کا جانی نقصان نہ ہو۔( بخاری )11 فتح حدیبیہ سے اگلے سال جب معاہدہ کے مطابق آپ عمرۃ القضاء کے لئے تشریف لائے تو مکہ میں صرف تین دن ٹھہرنے کی اجازت تھی۔اس موقع پر حضرت میمونہ کی شادی آپ کے ساتھ ہوئی۔آپ کی خواہش تھی کہ مکہ میں دعوت ولیمہ ہو جائے اور اہلِ وطن بھی اس میں شامل ہوں۔آپ نے کفار مکہ کو یہ پیغام بھی بھیجا کہ ایک دوروز اور مکہ میں رہ لینے دو اور دعوت میں تم سب لوگ شریک ہو جاؤ۔مگر انہوں نے اجازت نہ دی۔( بخاری 12 ) پھر بھی آپ کی اہل وطن سے محبت سرد نہ ہوئی۔فتح مکہ کے موقعہ پر آپ کی ساری حکمت عملی اس کوشش کے لئے وقف تھی کہ مکہ والوں کا جانی نقصان نہ ہو۔آپ نہایت تیز رفتاری سے دس ہزار کا لشکر لے کر مکہ پہنچے اور آپ کی یہ دلی آرزو پوری ہوئی۔جس روز وہ شہر مکہ فتح ہوا جہاں آپ کو سخت اذیتوں کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔آپ کی طرف سے پورے شہر کیلئے امان اور معافی کا اعلان ہی سننے میں آیا۔اہل مکہ کے ایک دستہ نے بدبختی سے از خود حملہ میں پہل کرکے اپنے دو آدمی مروالئے۔( بخاری )13 مکہ سے وفا فتح مکہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے وطن سے محبت کا اظہار کھل کر ہوا۔جب مکہ میں آپ کے قیام کا سوال ہوا کہ کہاں ٹھہریں گے۔؟ کیا اپنے پرانے گھروں میں؟ تو فرمایا ہمارے جدی رشتہ داروں عقیل وغیرہ نے وہ گھر کہاں باقی چھوڑے؟ بیچ بچا دیے۔گو یا فتح پا کر بھی آپ نے اپنے گھروں کو واپس قبضہ میں نہ لیا اور یوں اہل وطن کی لاج رکھ لی۔( بخاری ) 14 فتح مکہ کے موقعہ پر نبی کریم کے دل میں جب وطن کا جوشِ تلاطم جس طرح ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔اس کا اندازہ حضرت ابو ہریرہ کی اس روایت سے ہوتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر ” حزورة “ مقام پر کھڑے ہوئے ( یہ