اسوہء انسانِ کامل — Page 20
اسوۃ انسان کامل 20 سوانح حضرت محمد علی فرمائی۔پس مسلمانوں پر اسلام پھیلانے کے لئے جبر و تشدد کا الزام عائد کرنا کسی صورت میں بھی درست نہیں خصوصاً جب کہ بانی اسلام کا یہ واضح فرمان بھی موجود ہے کہ مجھے صرف اس وقت جنگ کی اجازت ہے۔جب تک اسلام کے خلاف تلوار اٹھانے والے اسلام قبول کر کے لڑائی سے دستکش نہ ہو جا ئیں۔مسلمانوں کی جنگیں اصولاً دفاعی اور خود حفاظتی کے طور پر تھیں۔بعض صورتوں میں قیام امن اور مذہبی آزادی ان کا غالب مقصد تھا اور بعض دفعہ کسی خطرناک جرم ظلم یا بدعہدی وغیرہ کی پاداش میں کسی قبیلہ کو سزادینی مقصود تھی جبکہ بعض بین القبائلی معاہدات کی پابندی میں عہدوں کے خلاف معاہد قبیلہ کی مدد کی خاطر تھیں۔ہجرت مدینہ کے معاً بعد جب سارا عرب مدینہ کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا اور چاروں طرف مسلمانوں کے خلاف خطرات منڈلانے لگے تو ارد گرد کے حالات سے باخبر رہنے کے لئے رسول کریم ﷺ نے بعض صحابہ پر مشتمل دستے اطراف مدینہ میں بھجوائے جن کا ایک مقصد دشمن کو مرعوب اور متنبہ کرنا تھا کہ مسلمان ان کے منصوبوں سے باخبر ہیں۔دوسرے ان مہمات کے ساتھ حتی الوسع نواحی قبائل میں نفوذ کے ذریعہ انہیں اپنے ساتھ معاہدہ امن میں شریک کرنا تھا تا کہ مدینہ نواحی قبائل سے حملہ کے خطرات سے محفوظ بھی ہو جائے۔اس دوران قریش کا ایک سردار کرز بن جابر مسلمانوں کی ایک چراگاہ پر حملہ آور ہو کر ان کے اونٹ کوٹ کر لے جانے میں کامیاب ہو گیا۔دوسرا اہم واقعہ مسلمان سردار حضرت عبداللہ بن جحش کے خبر رساں دستہ سے قریش کا آمنا سامنا اور اس کے نتیجہ میں ایک کافر عمرو بن حضرمی کی ہلاکت تھی۔یہ واقعہ نا دانستہ طور پر حرمت والے مہینہ میں پیش آ گیا تھا۔اس کے با وجود نبی کریم ﷺ نے اس پر اپنے صحابہ کی سرزنش فرمائی۔ادھر قریش کو جو مسلمانوں کے خلاف مسلسل جنگی تیاری میں مصروف تھے مسلمانوں پر حملے کا ایک اور بہانہ مل گیا۔جنگ بدر بھی اسی کا شاخسانہ تھی۔(زرقانی) 47 غزوہ بدر غزوہ بدر کا فوری سبب ابوسفیان کی سرکردگی میں شام سے واپس آنے والا قریش کا وہ تجارتی قافلہ تھا جس کا سارا منافع مسلمانوں کے خلاف جنگ میں خرچ ہونا تھا اور اس قافلہ کا راستہ روکنا قریش کی سرگرمیوں کو کمزور کرنے کا ایک ذریعہ ہو سکتا تھا جس کے لئے رسول اللہ ﷺ نے ایک خبر رساں پارٹی بھجوائی۔ابوسفیان کو بھی اس کی اطلاع ہو گئی اور اس نے فوراً مکہ سے امدادی لشکر حاصل کرنے کے لئے اپنا سوار روانہ کر دیا جس نے مکہ پہنچ کر مسلمانوں کے خلاف آگ لگا دی۔چنانچہ آنا فانا ایک ہزار کا لشکر جرار مسلمانوں پر حملہ کے ارادہ سے مکہ سے نکلا۔جس میں سات سو اونٹ، ایک سو گھوڑے تھے اور یہ لشکر سامان حرب سے لیس تھا۔ابھی لشکر مکہ اور بدر کے درمیان تھا کہ انہیں ابوسفیان کے قافلہ کے بخیرت مدینہ سے نکل آنے کی اطلاع مل گئی مگر سرداران قریش پر جنگ کا بھوت سوار تھا۔وہ مدینہ کی طرف بڑھے اور بدر میں آکر ڈیرے ڈال دیئے۔