اسوہء انسانِ کامل — Page 19
اسوہ انسان کامل 19 سوانح حضرت محمد علی شروع کر دیا کہ تھوڑے ہی عرصہ میں سارے عرب میں مسلمانوں کے خلاف مخالفت کی آگ بھڑک اٹھی اور مدینہ کے مسلمانوں کے لئے کسی قبیلہ سے بھی اچانک حملہ کا خطرہ پیدا ہو گیا۔اسی وجہ سے مسلمان ہجرت مدینہ کے ابتدائی ایام میں دن رات ہتھیار بند ہو کر رہتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ کبھی وہ وقت بھی آئے گا کہ جب ہم آرام کی نیند سو سکیں گے۔رسول کریم ﷺ کا بھی یہی حال تھا۔ایک رات آپ نے فرمایا کہ کیا ہی اچھا ہوتا اگر کوئی نیک صحابی آج رات میرا پہرہ دیتا اور میں کچھ دیر سولیتا۔اتنے میں حضرت سعد بن ابی وقاص کے ہتھیاروں کی جھنکار سنائی دی۔انہوں نے بتایا کہ وہ حضور ﷺ کے پہرے کے لئے حاضر ہوئے ہیں۔(مسلم ) 46 مسلمانوں کو دفاعی مقابلہ کی اجازت جب سارا عرب مٹھی بھر مسلمانوں اور خدائے واحد کے پرستاروں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہو گیا تو ہجرت مدینہ کے دوسرے سال ماہ صفر میں آنحضرت ﷺ کو بھی اپنی حفاظت اور دفاع کی خاطر مقابلہ کی اجازت مل گئی۔جس کا ذکر سورۃ الحج میں اس طرح ہے۔أذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بأنَّهُمْ ظُلِمُوا وَانَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ مِ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِ هِمُ بِغَيْرِ حَقَّ الا ان يقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوْتٌ وَّ مَسْجِدُ يُذْكَرُفِيهَا اسْمُ الله كَثِيرًا، وَلَيَنصُرَنَّ الله مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزُه (الحج 41,40) یعنی ان لوگوں کو جن کے خلاف قتال کیا جارہا ہے (قتال کی ) اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم کئے گئے۔اور یقینا اللہ ان کی مدد پر پوری قدرت رکھتا ہے۔وہ لوگ جنہیں ان کے گھروں سے ناحق نکالا گیا محض اس بنا پر کہ وہ کہتے تھے کہ اللہ ہمارا رب ہے۔اور اگر اللہ کی طرف سے لوگوں کا دفاع ان میں سے بعض کو بعض دوسروں سے کھڑا کر نہ کیا جاتا تو راہب خانے منہدم کر دیئے جاتے اور گرجے بھی اور یہود کے معاہد بھی اور مساجد بھی جن میں بکثرت اللہ کا نام لیا جاتا ہے۔اور یقینا اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرتا ہے۔یقینا اللہ بہت طاقتور ( اور ) کامل غلبہ والا ہے۔اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ جنگ کی اجازت مسلمانوں کو ان حالات میں دی گئی جب وہ مظلوم اور مجبور اور مذہبی آزادی سے محروم ہو کر اپنے وطنوں اور مالوں سے محروم کئے گئے اور انہوں نے کبھی بھی اسلام پھیلانے کے لئے تلوار نہیں اٹھائی بلکہ جنگ کے سالوں کے برعکس صلح حدیبیہ کے زمانہ میں اسلام زیادہ پھیلا اور فتح مکہ تک مسلمانوں کی تعداد دس ہزار ہوگئی جو جنگی زمانہ میں تین سو سے تین ہزار تک تھی۔اس سے ظاہر ہے کہ جب کمزور مسلمانوں نے اپنے دفاع کیلئے تلوار اٹھائی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق ان کے دشمنوں کو تباہ و برباد کر کے انہیں فتح ونصرت عطا