اسوہء انسانِ کامل — Page 21
اسوۃ انسان کامل 21 48 سوانح حضرت محمد عام ادھر رسول کریم ﷺ کو اس لشکر کی اطلاع ہوئی۔آپ نے کمال حکمت اور دانش مندی سے اس لشکر کی خبر عام کرنے سے احتراز کیا تا کہ خوف اور بددلی نہ پھیلے۔البتہ مسلمانوں کو قافلہ کی روک تھام اور اس کی حفاظت کے لئے آنے والے لشکر دونوں سے ہوشیار کر دیا۔آپ نے خاص طور پر انصار سے مدینہ سے باہر جا کر کفار مکہ سے مٹھ بھیٹر کی صورت میں مشورہ طلب کیا۔کیونکہ ان کا معاہدہ آپ سے مدینہ میں رہ کر حفاظت کرنے کا تھا۔اس کے جواب میں پہلے مہاجرین نے ہر حال میں آپ کا ساتھ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔مگر آپ کے بار بار استفسار پر انصار کے رئیس سعد بن معاذ نے بھی اپنی اطاعت و وفا کا یقین دلایا۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ”پھر اللہ کا نام لے کر آگے بڑھو۔اللہ تعالیٰ نے مجھے دونوں گروہوں یعنی قافلہ یا لشکر میں سے کسی ایک پر غلبہ کا وعدہ فرمایا ہے۔اس کے بعد آپ میدان بدر کی طرف بڑھے جہاں لشکر کفار پہلے پہنچ کر پانی اور گھاس والی اچھی جگہ پر قبضہ کر چکا تھا۔رسول کریم ﷺ وہاں جا کر ایک ریتلے ٹیلے پر اترے۔خدا کا کرنا کیا ہوا کہ بارش ہوگئی جس کی وجہ سے مسلمانوں کی پوزیشن زیادہ محفوظ اور بہتر ہوگئی۔17 رمضان کو جمعہ کے دن دونوں لشکر آمنے سامنے تھے۔(ابن ہشام) لڑائی سے پہلے قدیم دستور کے مطابق پہلے انفرادی لڑائی کے لئے فریقین نے ایک دوسرے کو للکارا۔انصار کی بجائے رسول کریم ﷺ نے سردار مہاجرین حضرت حمزہ ، حضرت علیؓ اور حضرت عبیدہ کو آگے بڑھنے کا حکم دیا۔جنہوں نے سخت مقابلہ کے بعد اپنے حریفوں کا کام تمام کر دیا۔اس کے بعد لشکر کفار نے مسلمانوں پر دھاوا بول دیا۔لڑائی کا بازار گرم ہوا تو مہاجرین و انصار نے دشمن کی صفیں کاٹ کر رکھ دیں۔دو انصاری نو جوانوں نے حضرت عبدالرحمان بن عوف سے ابو جہل کی نشاندہی کروا کے اس پر ایسا کاری حملہ کیا کہ وہ زمین پر آ رہا۔( بخاری ) مسلمانوں کے جوش و خروش کے باوجود کفار کی کثرت اور ساز و سامان کا مقابلہ بظاہر مشکل نظر آتا تھا لیکن رسول کریم ﷺ کی دعاؤں نے یہ کام آسان کر دیا۔آپ تسجدہ سے اٹھے۔بآواز بلند سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ۔(القمر 46 ) یعنی کفار کو شکست ہوگی اور دشمن پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔وحی کی تلاوت فرماتے ہوئے کنکروں کی ایک مٹھی کفار کی طرف پھینکی تو ایسے زور کی آندھی چلی کہ کفار کی آنکھیں منہ اور ناک ریت سے بھر گئے۔ادھر مسلمانوں نے بھی یکدم حملہ کیا۔جس کے نتیجہ میں کفار کے پاؤں اکھڑ گئے۔ان کے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی اور میدان صاف ہو گیا۔مسلمانوں نے ستر قیدی پکڑے اور اتنے ہی کا فر مارے گئے۔جن میں سے چوبیس سرداران قریش تھے۔جن کو ایک گڑھے میں دفنایا گیا۔مسلمان شہداء کی تعداد چودہ تھی۔جس میں چھ مہاجر اور آٹھ انصار تھے۔نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ مال غنیمت اور فتح کے ساتھ مدینہ واپس لوٹے۔( بیشمی ) مسلمانوں کے کفار قیدیوں کے ساتھ سلوک کے بارہ میں سرولیم میورلکھتا ہے: 49 محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اہالیانِ مدینہ اور وہ مہاجرین جنہوں نے یہاں اپنے گھر بنالئے تھے کے پاس جب ( بدر کے قیدی آئے تو انہوں نے ان سے نہایت عمدہ سلوک کیا۔