اسوہء انسانِ کامل — Page 305
اسوہ انسان کامل 305 آنحضرت معه بحیثیت معلم و مربی اعظم موقع ظن سے بچنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تربیت کے لئے ایک اصول یہ سکھایا کہ تہمت کے موقع سے بچنا چاہئے۔حضور کا اپنا دستور بھی یہی تھا۔ایک رمضان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے۔حضرت صفیہ آپ سے ملنے آئیں۔واپس جاتے وقت حضور ان کے ساتھ ہو لئے تا کہ گھر تک چھوڑ آئیں۔راستہ میں دو انصاری صحابہ ملے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو روک کر فرمایا یہ میری بیوی صفیہ بنت حیی میرے ساتھ ہیں۔انہوں نے نہایت تعجب سے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم بھلا آپ کے بارہ میں کوئی غلط گمان کر سکتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیطان انسان کے اندر خون کی طرح گردش کرتا ہے اور مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں کوئی بات نہ ڈال دے۔(بخاری)70 رسول کریم کی تربیت کا انداز بہت پیار تھا۔آپ نے کبھی ڈانٹ ڈپٹ میں کسی کو برا بھلا نہیں کہا۔ایسے موقع پر بس اتنا فرماتے اس کی پیشانی خاک آلود ہو اُسے کیا ہو گیا ہے۔( بخاری ) 71 سی کلمہ بددعانہیں بلکہ ایک دعا کے رنگ میں ہوتا تھا کہ اسے توفیق اطاعت عطا ہو۔نماز پڑھے۔اللہ کے حضور سجدوں میں اس کی پیشانی خاک آلودہ ہو۔انداز نصیحت ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کو باہم جھگڑتے دیکھا۔ایک آدمی غصے سے دیوانہ ہوا جار ہا تھا۔اس کا چہرہ پھول کر رنگ متغیر ہو گیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت خود اسے بلا کر یا مخاطب کر کے نصیحت نہیں فرمائی بلکہ علم النفس کا ایک گہرا نفسیاتی نکتہ سمجھاتے ہوئے تعجب انگیز انداز میں فرمایا مجھے ایک ایسی دعا کا پتہ ہے کہ اگر کوئی شخص یہ پڑھے تو اس کا غصہ جاتا رہے۔ایک شخص نے جو یہ سُنا تو اس آدمی کو جا کر بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ” اَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّحِیمِ پڑھ لو۔یعنی میں راندے ہوئے شیطان سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں تو غصہ دور ہو جائے گا مگر وہ کوئی گنوار بد و تھا۔بدبخت نے یہ نسخہ استعمال نہ کیا اور کہا میں کوئی دیوانہ ہوں۔( بخاری )72 کاش ! وہ شخص اس نسخہ کو آزماتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم النفس کا حیرت انگیز مجزہ اس کی ذات میں بھی ظاہر ہوتا لیکن اگر اس بد بخت بد و نے تو اس سے فائدہ نہیں اٹھایا ہم کیوں نہ یہ نسخہ آزمائیں۔اے آزمانے والے یہ نسخہ بھی آزما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفیر امن تھے۔لڑائی جھگڑا سخت نا پسند اور آپ کی طبیعت پر بہت گراں ہوتا تھا جس کا احساس آپ اپنے زیر تربیت صحابہ میں بھی اجاگر کرنا چاہتے تھے۔ایک دفعہ رمضان کے آخری با برکت ایام میں بذریعہ رؤیا آپ کو لیلتہ القدر کی طاق رات کا علم دیا گیا کہ وہ کونسی