اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 304 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 304

304 آنحضرت ساله بحیثیت معلم و مربی اعظم اسوہ انسان کامل موت فوت اور غم کے مواقع پر بھی حضور نے صبر کا اعلیٰ نمونہ پیش فرمایا۔بالخصوص اپنے بیٹے صاحبزادہ ابراہیم کی وفات، اپنے چچا حمزہ اور چازاد بھائی حضرت جعفر کی شہادت پر صبر کے بے نظیر نمونے پیش فرمائے۔عورتوں کو بھی صدمہ کے موقع پر صبر کی نصیحت فرماتے تھے۔خواتین کی تربیت کے لئے ان کے مطالبہ پر ہفتہ میں ایک دن ان کے لئے مقرر تھا۔( بخاری )65 عیدین پر تمام خواتین کی حاضری رسول کریم نے ضروری قرار دی۔اور فرمایا جن عورتوں نے بوجہ عذر شرعی نماز نہیں پڑھنی وہ مسلمانوں کی دعا میں شریک ہو جائیں۔اس موقع پر حضور مردوں میں خطبہ کے بعد عورتوں کی طرف بھی تشریف لے جاتے اور انہیں وعظ فرماتے تھے۔( بخاری ) 66 اس طرح رسول کریم خواتین کی تربیت کا خاص خیال رکھتے تھے۔اس میں تربیت کا یہ راز مضمر تھا کہ اچھی تربیت یافتہ ما ئیں تربیت یافتہ نسلیں مہیا کریں اور دین و تقویٰ میں اپنی اولاد کے لئے بہترین نمونہ بنیں۔چنانچہ حضرت زینب بنت ابی سلمہ سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نبی کریم کی بیوی حضرت ام حبیبہ کے پاس حاضر ہوئی۔وہ فرمانے لگیں کہ میں نے نبی کریم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ کسی مومن عورت کے لئے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتی ہے یہ جائز نہیں کہ وہ وفات پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے۔سوائے اپنے خاوند کے کہ جس کے لئے وہ چار ماہ دس دن ( عدت کے مطابق ) سوگ کرے گی۔( یعنی آرائش اور بناؤ سنگھار سے پر ہیز کرے گی۔) پھر میں زینب بنت جحش کے پاس آئی جب ان کا بھائی فوت ہوا۔انہوں نے تیسرے دن کے بعد کچھ خوشبو منگوا کر لگائی۔پھر فرمایا کہ مجھے اس خوشبو وغیرہ کی کوئی حاجت یا ضرورت نہ تھی مگر میں نے نبی کریم سے منبر پر سنا ہے کہ کسی مومن عورت کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے اپنے خاوند کے جس پر وہ چار ماہ دس دن سوگ کرے۔( بخاری ) 67 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت کرنے کا ایک عمدہ پہلو یہ تھا کہ کسی امر کے بارہ میں شکایت ملتی تو غائب کے صیغے میں نام لئے بغیر عمومی نصیحت فرما دیتے۔ایک دفعہ حضرت عائشہ سے فرمایا کہ میرا خیال ہے فلاں فلاں آدمی ہمارے دین اسلام کی تعلیم کو صیح طرح سے نہیں سمجھتے۔یہ منافق لوگ تھے جن کا ذکر فرمایا۔(بخاری) 68 ایک دفعہ حضرت عائشہ نے ایک لونڈی کو خرید کر آزاد کیا۔لونڈی کے مالکوں نے یہ نا واجب شرط رکھ دی کہ اس لونڈی کی وفات پر اس کے ورثہ پر ان کا حق ہو گا۔نبی کریم کو پتہ چلا تو آپ نے خطبہ ارشاد کیا اور فرمایا کہ کیا ہو گیا ہے ان لوگوں کو جو اللہ کے فیصلہ کے خلاف شرطیں لگاتے ہیں۔ایسی شرطوں کی کوئی حیثیت نہیں۔غلام یا لونڈی کا ورثہ آزاد کرنے والے کا ہوتا ہے۔(اگر اس کی اپنی اولاد نہ ہو )۔( بخاری ) 69