اسوہء انسانِ کامل — Page 306
306 آنحضرت ماه بحیثیت معلم و مربی اعظم اسوہ انسان کامل رات ہے۔آپ صحا بہ کو یہ خوشخبری سنانے آئے تو دیکھا کہ دو مسلمان آپس میں جھگڑ رہے ہیں۔آپ کی توجہ ان کی طرف ہوگئی اور اس رؤیا کا مضمون ذہن میں نہ رہا۔آپ نے فرمایا کہ وہ رات تمہارے جھگڑے کے باعث مجھے بھلا دی گئی ہے اور شاید اس میں بھی حکمت ہو کہ تم لوگ اس کی تلاش میں زیادہ راتیں خدا کی عبادت میں گزارسکو۔اس لئے اب اسے طاق راتوں میں تلاش کرو۔( بخاری ) 73 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم درشت طبع لوگوں کی تربیت بھی نرمی سے کرتے تھے۔ایک دفعہ ایک شخص ملنے آیا جو رشتہ داروں سے بدسلوکی اور قطع رحمی کرتا تھا۔آپ اس سے بہت نرمی سے پیش آئے۔حضرت عائشہ نے وجہ پوچھی تو فرمایا بد ترین لوگ وہ ہیں جن کی بدزبانی سے بچنے کے لئے لوگ ان سے جان بچائیں۔( بخاری ) 74 حضرت ابو رافع بن عمر وغفاری بیان کرتے ہیں کہ جب میں بچہ تھا انصار کے کھجور کے درختوں سے (کھجور گرانے کے لئے ) پتھر مارا کرتا تھا۔انصار مجھے پکڑ کر نبی کریم کی خدمت میں لے گئے حضور نے پوچھا ( رافع !) تم کھجور کے درخت پر پتھر کیوں مارتے ہو؟ میں نے کہا بھوک کے مارے کھجور کھانے کے لئے ایسا کرتا ہوں۔آپ نے مجھے سمجھایا کہ پتھر نہ مارا کرو۔البتہ جو کھجور میں درختوں کے نیچے گری ہوں وہ اُٹھا کر کھا لیا کرو۔پھر آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور یہ دعادی اللَّهُمَّ أَشْبِعُ بَطْنَهُ اے اللہ اس کے پیٹ کو بھر دے۔(ابوداؤد )75 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں توحید کی تعلیم دی وہاں اپنے صحابہ کی تربیت میں بھی یک رنگی پیدا کرنے کی طرف توجہ فرمائی۔آپ کو دوغلی طبیعت کے اور دوہرے چہرے رکھنے والے لوگ سخت نا پسند تھے جو موقع محل کے مطابق اپنا چہرہ بدل لیں۔( بخاری ) 76 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا مطمح نظر یہ تھا کہ سب مسلمان بھائی بھائی بن جائیں اور ایک پر امن معاشرہ قائم ہو۔آپ صحابہ کو تلقین فرماتے تھے کہ آپس میں بغض و حسد نہ رکھو اور نہ ہی کسی کی پیٹھ پیچھے بات کرو۔اللہ کے بندے اور بھائی بھائی ہو جاؤ کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ تین دن سے زیادہ کسی مسلمان بھائی سے قطع تعلق رکھے۔نیز فرماتے تھے کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ دو بھائی ملیں تو ایک دوسرے سے رخ پھیر لیں۔اگر کوئی ناراضگی ہو بھی تو بہترین شخص وہ ہے جو سلام میں پہل کر کے ناراضگی دور کرے۔( بخاری ) 77 نبی کریم کی اس پاکیزہ تعلیم اور تربیت کے مجرب اصولوں کی روشنی میں عظیم تر بیتی انقلاب بر پا کیا جاسکتا ہے۔شرط یہ ہے کہ اسوہ رسول مشعل راہ ہو۔کہتے ہیں یورپ کے ناداں وحشیوں میں دین کا پھیلانا یہ کیا مشکل تھا معنی راز نبوت ہے اسی سے آشکار پر بنانا آدمی وحشی کو ہے اک معجزہ