اسوہء انسانِ کامل — Page 15
اسوہ انسان کامل 15 سوانح حضرت محمد علی محمد کے طائف کے سفر میں عظمت اور شجاعت کا رنگ نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ایک تنہا شخص جس کی قوم نے حقارت کی نظر سے دیکھا اور رڈ کر دیا، وہ خدا کی راہ میں دلیری کے ساتھ اپنے شہر سے نکلتا ہے اور جس طرح یونس بن متی نینوا کو گیا اسی طرح وہ ایک بت پرست شہر میں جاکر ان کو توحید کی طرف بلاتا اور تو بہ کا وعظ کرتا ہے۔اس واقعہ سے یقینا اس بات پر روشنی پڑتی ہے کہ محمد کو اپنے صدق دعوئی پر کس درجہ ایمان تھا۔( میور (36 سفر طائف سے واپسی پرنصیبین ( عراق) سے تحقیق حق کی خاطر آنے والا ایک وفد آپ سے ملا جو جنات کے وفد سے مشہور ہوا ہے۔( زرقانی) 37 اس زمانہ میں آنحضرت میں اللہ نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر فارس اور روم کے مابین جاری جنگ کے متعلق پیشگوئی فرمائی کہ اس وقت روم مغلوب ہے۔لیکن آئندہ چند سالوں میں یہ فارس پر غالب آجائیگا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور روم نے اپنے مفتوحہ علاقے واپس لے لئے۔قبائل کا دورہ اہل مکہ و طائف کے انکار کے بعد آنحضرت ﷺ نے دیگر قبائل تک پیغام حق پہنچانے کے لئے میلوں اور حج کے دنوں سے فائدہ اٹھانا شروع کیا۔جہاں لوگ کثرت سے اکٹھے ہوتے تھے۔یہ دیکھ کر قریش مکہ میں سے خاص طور پر ابو جہل اور ابولہب نے آپ کا تعاقب کرتے ہوئے جھوٹے پراپیگنڈہ میں کوئی کسر اٹھانہ رکھی۔ایام حج میں حضور ﷺ کی ملاقات میثرب کے قبیلہ خزرج کے کچھ لوگوں سے ہوئی۔جنہیں آپ نے اسلام کی دعوت دی اور 11 رنبوی میں چھ افراد پر مشتمل وہاں کے ایک وفد نے اسلام قبول کر لیا اور بیٹرب میں اسلام کی 6 داغ بیل پڑ گئی۔بیعت عقبہ الله سن 12 نبوی میں حج کے موسم میں نبی کریم کی ملاقات میثرب کے ان بارہ افراد سے ہوئی جو اس سے قبل بھی آپ سے ملاقات کر چکے تھے۔اس دفعہ انہوں نے مکہ اور منی کے درمیان ایک پہاڑی گھائی عقبہ میں آپ سے ملاقات کر کے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی جو بیعت عقبہ اولی کہلاتی ہے۔بیعت کرنے والوں کی درخواست پر رسول کریم ﷺ نے اپنے ایک ساتھی حضرت مصعب بن عمیر کو تعلیم و تربیت کے لئے ان کے ساتھ میٹرب بھجوایا۔تھوڑے ہی عرصہ میں یثرب کے قبائل اوس و خزرج میں اسلام کا چرچا ہونے لگا اور اگلے سال 13 نبوی میں حج کے موقع پر حضرت مصعب بن عمیر ستر افراد کا وفد لے کر میٹر ب سے آئے اور عقبہ کے مقام پر رسول اللہ ہے کے چچا حضرت عباس کی موجودگی میں حضور " سے ملاقات کر کے آپ کی بیعت کی اور مدینہ تشریف لانے کی دعوت