اسوہء انسانِ کامل — Page 14
اسوہ انسان کامل 14 سوانح حضرت محمد علی کی ذات کونشانہ بنایا جانے لگا۔جس کی جرأت پہلے کسی کو نہ تھی۔(ابن ہشام ) 33 حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد مسلمان عورتوں کی تربیت کے لئے حضور کے گھر میں کسی زوجہ مطہرہ کا ہونا ضروری ہو گیا تھا۔آپ نے اللہ کے حضور دعا کی تو خواب میں ایک سبز رنگ کے ریشمی رومال میں حضرت عائشہ کی تصویر دکھائی گئی۔جبریل نے کہا کہ یہ دنیا و آخرت میں آپ کی بیوی ہیں۔اس کے کچھ عرصہ بعد ایک بزرگ صحابیہ حضرت خولہ نے حاضر خدمت ہو کر آنحضرت ﷺ کو شادی کی تحریک کرتے ہوئے حضرت عائشہ اور حضرت سودہ کے رشتوں کی تجاویز پیش کیں اور ساتھ ہی حضور کی اجازت سے ان دونوں جگہ پر آنحضرت ﷺ کی طرف سے پیغام بھی پہنچایا۔شوال دس نبوی میں یہ دونوں نکاح ہو گئے جبکہ حضرت سودہ کی رخصتی بھی عمل میں آگئی۔( ازواج ) 34 سفر طائف اسی زمانہ میں حضور نے پیغام حق پہنچانے کے لئے مکہ میں درپیش مشکلات کے پیش نظر طائف کی طرف سفر اختیار فرمایا جو مکہ سے جنوب مشرق کی طرف چالیس میل کے فاصلہ پر ایک مشہور شہر ہے، وہاں آپ نے دس دن قیام فرمایا۔اور سرداران طائف سے پناہ حاصل کر کے وہاں پیغام پہنچانا چاہا۔وہاں کے رئیس عبد یا لیل نے صاف کہہ دیا کہ اگر آپ سچے ہیں تو مجھے آپ سے گفتگو کی مجال نہیں اور اگر آپ جھوٹے ہیں تو گفتگو لا حاصل ہے۔پھر اس نے اس خیال سے کہ شہر کے نوجوانوں پر اثر نہ ہو آوارہ لوگوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا جنہوں نے برابر تین میل تک آپ کا تعاقب کیا اور اس قدر پتھر برسائے کہ آپ سر سے پاؤں تک لہولہان ہو گئے۔اس موقع پر پہاڑوں کا فرشتہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ اگر ارشاد ہوتو یہ دونوں پہاڑ اہل طائف پر پیوست کر کے ان کا خاتمہ کردوں۔رحمۃ اللعالمین ﷺ نے فرمایا نہیں۔مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں میں سے وہ لوگ پیدا کر دیگا جو خدائے واحد کی پرستش کرینگے۔چنانچہ فتح مکہ کے بعد حضور کی یہ امید بھی برآئی۔طائف سے واپسی پر ایک باغ میں حضور ﷺ نے پناہ لی اور خدا تعالیٰ کے حضور اپنی کمزوری اور بے بسی کا واسطہ دیتے ہوئے بڑے درد کے ساتھ الحاج سے دعا کی۔جسے دیکھ کر باغ کے مالک عتبہ کا دل بھی بھر آیا اور اس نے اپنے غلام عد اس کو انگوروں کا ایک خوشہ دے کر بھجوایا۔جب آپ کو پتہ چلا کہ وہ عیسائی اور حضرت یونس نبی کے شہر کا باشندہ ہے تو آپ نے فرمایا کہ وہ میرا بھائی اور اللہ کا نبی تھا۔اور میں بھی اللہ کا نبی ہوں۔غلام نے آگے بڑھ کر آپ کے ہاتھ چوم لئے۔مکہ میں داخل ہونے کے لئے دوبارہ آپ کو کسی میں کی پناہ کی ضرورت تھی۔آپ نے ایک شریف سردار مطعم بن عدی کو پیغام بھجوایا اور اس کی ذمہ داری پر آپ مکہ میں داخل ہوئے۔(ابن ہشام) 35 نبی کریم کی سفر طائف کے ابتلاء میں غیر معمولی استقامت کی گواہی مشہور مستشرق سرولیم میور نے خوب دی ہے: