اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 16 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 16

اسوہ انسان کامل 16 سوانح حضرت محمد علی دیتے ہوئے آپ کے ساتھ یہ معاہدہ کیا کہ وہ اپنی جانوں کی طرح آپ کی حفاظت کریں گے۔(ابن ہشام) 38 ہجرت مدینہ بیعت عقبہ کے بعد نبی کریم ﷺ نے صحابہ کو تو انفرادی طور پر یثرب ہجرت کرنے کی اجازت عطا فرما دی لیکن خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت کا انتظار فرماتے رہے۔قریش نے یہ دیکھ کر کہ اب محمد یہ اکیلے رہ گئے ہیں، دارالندوہ میں قریش کے قریبا ایک سوسر بر آوردہ افراد کو جمع کر کے مکہ میں آپ کے خلاف آخری مہم سر کرنے کا فیصلہ کیا اور طے پایا کہ ہر قبیلہ سے ایک مسلح نوجوان باہر نکلے اور سب مل کر بالآخر محمد ﷺ کا خاتمہ کر دیں۔اس طرح بن عبد مناف مقابلہ بھی نہ کرسکیں گے اور خون بہا بھی تمام قبائل پر پھیل جائے گا۔ادھر یہ فیصلہ ہوا اور ادھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو یثرب ہجرت کر جانے کی اجازت فرما دی۔آپ فورا حضرت ابو بکر کے گھر تشریف لے گئے اور انہیں اطلاع کی وہ فرط مسرت سے رو پڑے۔پھر اپنی اونٹنیاں سفر کے لئے پیش کر دیں جو حضور ﷺ نے قیمتاً قبول فرمائیں۔نوجوانان قریش نے اس رات رسول اللہ ﷺ کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔رسول کریم ﷺ نے اپنے بستر پر حضرت علی کو لیٹنے کا ارشاد فرمایا اور ہدایت کی کہ لوگوں کی امانتیں انہیں لوٹا کر مدینہ آجانا اور حضرت ابو بکڑ سے طے شدہ پروگرام کے مطابق نہایت خاموشی سے رات کے وقت گھر سے نکل کر مکہ سے تین میل کے فاصلہ پر واقعہ غار ثور کی طرف روانہ ہوئے۔وہاں پہنچ کر حضرت ابو بکر نے غار ثور میں داخل ہو کر اسے صاف کیا اور پھر حضور علی اندر تشریف لے گئے۔( ابن ہشام ) 39 اگلے دن قریش کو پتہ چلا کہ شکار ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے تو سخت مایوس ہوئے اور آپ کے تعاقب کی ہر ممکن کوشش کی حتیٰ کہ غار ثور کے منہ پر جاپہنچے۔خدا کی قدرت کہ حضور علیہ کے غار میں داخل ہونے کے بعد مکڑی نے ﷺ جالاتن لیا تھا۔جب کسی نے کہا کہ غار کے اندر دیکھو تو دوسرے نے کہا یہ کون سی عقل کی بات ہے اور اس تاریک خطرناک غار میں کون چھپ سکتا ہے۔ان خطر ناک لمحات میں جب بانی اسلام کی زندگی خطرے میں تھی تو آپ کے فدائی ساتھی حضرت ابوبکر نے اشارہ سے آپ کے بارہ میں اپنی فکرمندی کا اظہار کیا تونبی کریم ﷺ نے نہایت اطمینان سے فرمایا لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنا - التوبه (40) ہر گز غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔(زرقانی) 40 آنحضرت ﷺ اور حضرت ابو بکر نے تین راتیں غار ثور میں بسر کیں۔حضرت ابوبکر کے بیٹے عبداللہ اپنے ریوڑ چرانے کے بہانے آپ کو دودھ پہنچایا کرتے۔تیسرے دن جو 14 نبوی یکم ربیع الاول اور پیر کا دن تھا۔راہنمائے سفر عبداللہ بن اریقط حضرت ابوبکر کی دو اونٹنیوں اور ان کے غلام کے ہمراہ حاضر ہوا اور یہ قافلہ بیشترب روانہ ہوا۔رسول کریم ﷺ نے اپنی پیاری بستی پر آخری نظر ڈالتے ہوئے اسے یوں مخاطب کیا۔اے مکہ ! تو مجھے سب جگہوں سے زیادہ پیارا ہے۔مگر تیرے لوگ مجھے رہنے نہیں دیتے“۔(ترمذی) 41