اسوہء انسانِ کامل — Page 275
اسوہ انسان کامل 275 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ نبی ایک دن ہماری سرزمین پر غالب آئے گا اور اس کے ساتھی یہاں اتریں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور 17ھ میں مصر فتح ہو گیا۔(الحلبیہ (69 غسانی سردار کے نام خط رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شجاع بن وھب الاسدی کو حارث بن ابی شمر کی طرف دعوت اسلام کے لئے اپنا خط دے کر بھجوایا اور لکھا کہ اسلام قبول کر لو تو تمہاری حکومت بھی قائم ودائم رہے گی۔“ اس نے خط پڑھ کر پھینک دیا اور کہا ”کون ہے جو میرا ملک مجھ سے چھین سکے؟ میں اس کے خلاف لشکر کشی کرونگا۔“ اور قاصد سے کہا کہ اپنے آقا کو جا کر یہ بتا دو۔پھر اس نے قیصر شاہ روم کو مکتوب نبوی کی اطلاع دی۔قیصر نے جواباً لکھا کہ تمہیں اس نبی کے خلاف لشکر کشی کی ضرورت نہیں اور مجھے ایلیاء مقام پر آکر ملو۔یہ جواب آنے پر اس نے رسول اللہ کے قاصد کو بلوا بھیجا اور سو دینار اور پوشاک انعام دی اور کہا کہ رسول اللہ کو میر اسلام کہنا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قاصد سے اس کے احوال سنے تو فر مایا کہ اس کی حکومت تباہ و برباد ہوگی۔فتح مکہ کے سال حارث بن ابی شمر کی وفات ہوگئی۔( الحلبیہ (70 حاکم بیمامہ کے نام خط رسول اللہ نے سلیط بن عمرو عامری کو اپنا خط دے کر ھوزہ بن علی حنفی حاکم یمامہ کے پاس دعوت اسلام کے لئے بھیجوایا اور لکھا کہ میرا دین عنقریب غالب آئے گا۔تم اسلام قبول کر لو امن میں آجاؤ گے اور تمہاری حکومت تمہارے ہی سپرد رہے گی۔اس نے وہ خط پڑھ کر جوا با لکھا۔آپ کا پیغام نہایت عمدہ اور خوبصورت ہے۔میں اپنی قوم کا شاعر اور خطیب ہوں۔عرب لوگ میرے مرتبہ سے ڈرتے ہیں۔آپ اپنی حکومت میں سے میرا بھی کچھ حصہ مقرر کریں تو میں آپ کی پیروی کرلونگا۔نبی کریم نے اس کا خط پڑھ کر فرمایا ” اگر وہ زمین کا ٹکڑا بھی مانگتا تو میں اسے نہ دیتا۔فتح مکہ سے واپسی پر جبریل نے رسول اللہ کو ھوذہ کی وفات کی خبر دی۔(الحلبیہ ( 71 شاہ غسان کے نام خط جبلہ بن ایہم شاہ غسان کو بھی رسول اللہ نے خط لکھا جس میں اسلام کی دعوت دی۔اس نے اسلام قبول کر لیا اور حضرت عمرؓ کے زمانہ تک مسلمان رہا۔( الحلبیہ (72 سردار طائف کے نام خط ذی القلاع حمیری شاہان طائف میں سے تھا۔اس نے خدائی کا دعوی کر رکھا تھا۔رسول اللہ نے اس کے نام تبلیغی خط لکھا اور جریر بن عبد اللہ کے ہاتھ بھجوایا۔جریر کی واپسی سے قبل رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی۔