اسوہء انسانِ کامل — Page 274
اسوہ انسان کامل 274 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ کی طرف بھی تبلیغی خط لکھا۔اس نے اپنا نمائندہ رسول اللہ کی خدمت میں بھجوا کر اپنے قبول اسلام کی اطلاع کی اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ سواریاں خچر، گھوڑ اوغیرہ اور کچھ قیمتی پوشاکیں (جن پر سونے کا کام تھا) تحفہ بھجوائیں۔جب شاہ روم کو پتہ چلا کہ فروہ نے اسلام قبول کر لیا ہے تو اسے پکڑ کر قید کر دیا اور مسلسل دھمکیاں دیتا رہا کہ اس دین سے لوٹ آؤ تو حکومت واپس مل جائے گی۔استقامت کے شہزادے فروہ نے کمال بہادری سے جواب دیا کہ میں محمد مصطفی کے دین کو نہیں چھوڑ سکتا اور تم بھی جانتے ہو کہ حضرت عیسی" نے اس نبی کی خبر دی تھی مگر تم اپنی حکومت کے چھن جانے کے ڈر سے اسلام قبول نہیں کرتے ہو۔شاہ روم نے اُسے صلیب دے کر شہید کر دیا۔(الحلبیہ ( 68 نجاشی شاہ حبشہ کے نام خط رسول اللہ نے عمرو بن امیہ ضمری کو نجاشی شاہ حبشہ کی طرف خط دیکر بھجوایا۔جس میں بسم اللہ کے بعد تحریر فرمایا:۔یہ خط اللہ کے رسول محمد کی طرف سے شاہ حبشہ نجاشی کے نام ہے۔میں تمہارے پاس اس خدا کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ بادشاہ ہے، پاک ہے ، سلامتی والا اور امن دینے والا ہے، حفاظت کر نیوالا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ عیسی بن مریم اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں، جو اس نے پاکباز مریم بتول کو عطا کیا اور وہ عیسی کے ساتھ حاملہ ہوئیں۔میں آپ کو اس خدا کی طرف دعوت دیتا ہوں جس کا کوئی شریک نہیں اور یہ دعوت دیتا ہوں کہ آپ میری پیروی کریں اور اس کلام پر ایمان لائیں جو میرے پاس آیا ہے۔میں اللہ کا رسول ہوں۔میں نے آپ کے پاس اپنے چچا کے بیٹے جعفر اور ان کے ساتھ مسلمانوں کی ایک جماعت کو بھجوایا ہے۔سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے۔“ نجاشی نے یہ خط پا کر آنکھوں سے لگایا اور تخت شاہی سے نیچے اتر آیا اور انکساری سے زمین پر بیٹھ رہا۔پھر اپنے قبول اسلام کا اعلان کیا اور کہا اگر مجھے طاقت ہو تو ضرور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں۔“ شاہ مصر کو خط مقوقس شاه مصر و تبلیغی خط حاطب بن ابی بلتعہ کے ذریعہ حدیبیہ سے واپسی پر بھجوایا گیا۔مقوقس مذھباً عیسائی تھا۔اس خط کا مضمون بھی قیصر روم کے خط سے ملتا ہے۔مقوقس نے قاصد نبوی سے کچھ سوال وجواب کے بعد سعادت مندی کا مظاہرہ کیا۔مکتوب نبوی ہاتھی دانت کی ڈبیہ میں رکھا اور رسول اللہ کی خدمت میں جو بہا تحریر کیا کہ میں نے آپ کے خط کا مضمون سمجھ لیا ہے۔مجھے ایک نبی کے ظہور کا اندازہ تھا مگر خیال تھا کہ وہ شام سے ظاہر ہوگا۔اُس نے آپ کے قاصد کا اکرام کیا چنانچہ اسے سود بینار اور پانچ پوشاکیں دیں اور رسول اللہ کی خدمت میں ہیں پوشاکیں اور معزز خاندان کی دولڑ کیاں بھجوائیں۔ان میں سے ایک خاتون ماریہ رسول اللہ کے عقد میں آئیں۔مقوقس نے قاصد رسول سے کہا تھا کہ میرے درباریوں کو تمہارے ساتھ ہونے والی گفتگو کا پتہ نہ چلے۔میں حکومت چھن جانے کے ڈر سے اپنی قوم سے اسلام کے بارہ میں بات نہیں کرتا ، ورنہ میں جانتا ہوں کہ یہ