اسوہء انسانِ کامل — Page 269
اسوہ انسان کامل 269 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ تمہیں مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟ اس نے کہا سوائے آپ کے کوئی نہیں۔آپ سے اچھے سلوک کی توقع ہے۔دشمن قبیلہ کا یہ شخص غورث بن حارث دراصل آپ کے تعاقب میں تھا۔آنحضور نے صحابہ کو بلایا تو وہ اسے ڈرانے دھمکانے لگے۔آپ نے اس سے پوچھا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔اس نے کہا نہیں لیکن میں آپ کے خلاف کبھی لڑائی میں شریک نہ ہوں گا۔( بخاری ) 55 نبی کریم نے اس جانی دشمن کو بھی معاف کر دیا۔وہ آپ کے شفقت بھرے سلوک سے اتنا متاثر ہوا کہ نہ صرف اس نے بلکہ اس کی قوم کے بہت سے لوگوں نے رسول اللہ کی حفاظت کا یہ معجزانہ نشان دیکھ کر اس کے ذریعہ اسلام قبول کرنے کی توفیق پائی۔(زرقانی) 56 داعیان کی تیاری مدینہ کے نواحی قبائل اور قوموں سے لوگ آکر آنحضور کی صحبت میں رہتے ،تربیت پا کر واپس جاتے اور اپنے علاقے میں دعوت اسلام کی خدمات بجالاتے تھے۔مالک بن حویرث ایک دفعہ ہیں ساتھیوں کے ساتھ آ کر مدینہ میں کئی روز ٹھہرے اور دین اسلام سیکھ کر واپس گئے۔( بخاری )57 اصحاب صفہ کی تعلیم قرآن و سنت کا مسجد نبوی میں مستقل انتظام تھا۔رسول کریم کی دعوت اور تربیت کا بہترین طریق حسنِ عمل اور کردار تھا جو ہمیشہ ہی کامیاب ثابت ہوا۔آغاز اسلام میں حضرت خدیجہ، حضرت علی اور حضرت ابو بکر آپ پر ایمان لائے تو اس کا بنیادی سبب بھی رسول اللہ کا حسنِ کردار ہی تھا۔پھر ان کی تبلیغ اور نمونہ سے اور لوگ مسلمان ہوئے۔تالیف قلب اور احسان نبی کریم نے ایک گھڑ سوار دستہ نجد کی طرف بھجوایا۔وہ بنی حنیفہ کے ایک سردار عمامہ بن اثال کو گرفتار کر لائے جسے مسجد نبوی کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا گیا۔نبی کریم مسجد میں تشریف لائے اور ثمامہ سے پوچھا کہ تمہاری کیا رائے ہے؟ یعنی تمہیں کس سلوک کی توقع ہے؟ اس نے کہا میری رائے اچھی ہے کیونکہ آپ ہمیشہ احسان کرنے والے ہیں۔اگر مجھے قتل کریں گے تو میر اقبیلہ اس کا بدلہ لے گا اور اگر آپ احسان کا سلوک کریں گے تو ایک شکر گزار انسان پر احسان کریں گے اور اگر آپ میری آزادی کے عوض کوئی مال وغیرہ چاہتے ہیں تو جو مانگنا چاہتے ہیں مانگیں۔حضور نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔( مقصود یہ ہوگا کہ وہ مسجد نبوی میں مسلمانوں کی عبادت وغیرہ کے احوال دیکھ لے ) اگلے روز پھر نبی کریم نے اس سے وہی سوال دو ہرایا۔وہ بولا کہ میر اوہی جواب ہے جو پہلے عرض کر چکا ہوں کہ اگر آپ مجھ پر احسان کریں گے تو یہ ایک شکر گزار بندے پر احسان ہوگا۔دوسرے روز بھی حضور نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔پھر تیسرے روز اس سے وہی سوال پوچھا وہ کہنے لگا کہ میں پہلے ہی جواب عرض کر چکا ہوں۔آپ نے ارشاد فرمایا کہ شمامہ کو