اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 270 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 270

270 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ اسوہ انسان کامل آزاد کر دو۔ثمامہ رسول اللہ کے حسن سلوک، مسلمانوں کی پنجوقتہ عبادت، اطاعت اور وحدت کے نظارے سے اس قدر متاثر ہو چکا تھا کہ آزاد ہوتے ہی قریب کے نخلستان میں جا کر غسل کیا۔مسجد نبوی میں آکر کلمہ شہادت پڑھا اور اسلام قبول کر لیا۔پھر کہا اے محمد ! آپ کا چہرہ روئے زمین پر میرے لئے سب سے زیادہ قابل نفرت تھا مگر آج آپ مجھے دنیا میں سب سے پیارے ہیں۔خدا کی قسم کوئی مذہب مجھے آپ کے مذہب سے زیادہ ناپسندیدہ نہ تھا مگر آج آپ کا دین اسلام مجھے تمام دینوں سے زیادہ پیارا ہو چکا ہے۔خدا کی قسم کوئی شہر آپ کے شہر سے زیادہ میرے لئے قابل نفرت نہ تھا۔آج آپ کا شہر مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو چکا ہے۔آپ کے دستہ نے جب مجھے گرفتار کیا تو میں عمرہ کے ارادہ سے جارہا تھا۔اب میرے لئے کیا حکم ہے؟ نبی کریم نے اس کے یہ تاثرات سن کر بہت خوشنودی کا اظہار فرمایا۔ثمامہ کو دنیا و آخرت کی بھلائی کی بشارت دی اور عمرہ کرنے کی اجازت عطا فرمائی۔وہ مکہ میں عمرہ کرنے گئے تو کسی نے کہ دیا تم بھی صابی ہو گئے ہو یعنی نیا دین اختیار کر لیا ہے۔اس نے کہا نہیں میں مسلمان ہوکر محمد رسول اللہ پر ایمان لایا ہوں اور کان کھول کر سن لو! خدا کی قسم تمہارے پاس یمامہ سے غلہ کا ایک دانہ نہیں آئے گا جب تک نبی کریم اس کی اجازت عطا نہ فرمائیں۔( بخاری ) 58 فتح مکہ کے موقع پر بھی رسول اللہ کی تالیف قلبی اور احسان کو دیکھ کر مکہ کے بڑے بڑے سرداروں نے اسلام قبول کر لیا تھا جس کی تفصیل غزوات میں خلق عظیم اور انفاق فی سبیل اللہ کے زیر عنوان موجود ہے۔یہود مدینہ کو تبلیغ رسول اللہ کی مدینہ میں تشریف آوری کے وقت یہود کے تین بڑے قبائل موجود تھے جو مسلمانوں کے ساتھ میثاق مدینہ کے معاہدہ امن میں شریک تھے مگر اپنی بد عہدی کی وجہ سے باری باری مدینہ سے ان کا اخراج ہوتا رہا۔ہر چند کہ یہود مدینہ پر اتمام حجت ہو چکی تھی۔ان کے کئی سرداروں پر آپ کی سچائی کھل چکی تھی ، ایک خدا ترس یہودی عالم عبداللہ بن سلام کو تو قبول اسلام کی توفیق مل گئی لیکن باقی یہود کا رویہ اپنے سرداروں کی وجہ سے معاندانہ رہا کیونکہ باقی سردار اپنی انا اور ہٹ دھرمی کے باعث اپنی سرداری چھوڑنے پر آمادہ نہ تھے۔اسی لئے رسول اللہ نے فرمایا کہ اگر مجھ پر دس یہودی سردار بھی ایمان لے آتے تو سارے یہودی ایمان لے آتے۔( بخاری ) 59 یہود رسول اللہ کی مجالس میں حاضر ہو کر مختلف اعتراض بھی کرتے اور سوالات بھی اور تسلی بخش جواب بھی پاتے مگر ہدایت کی توفیق نہ ملی۔رسول اللہ آخر دم تک ان پر اتمام حجت فرماتے رہے اور یہود اپنے وطیرہ کے مطابق انکار پر مصرر ہے۔نبی کریم مدینہ میں یہود کی علمی درسگاہ بیت مدراس بھی تشریف لے جاتے تھے۔حضرت ابوھر بر کا بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک روز مسجد نبوی میں موجود تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا ” چلو آج یہود کی طرف چلتے ہیں۔چنانچہ ہم یہود کی تعلیمی درسگاہ بیت مدراس گئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں یہودی علماء سے گفتگو کے