اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 263 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 263

اسوہ انسان کامل 263 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ اس بات پر روشنی پڑتی ہے کہ محمد کو اپنے صدق دعوی پر کس درجہ ایمان تھا۔( میور )41 دعوت الی اللہ کے مواقع کی تلاش تبلیغ عام کے حکم کے بعد نبی کریم پر عرب کے مختلف قبائل میں دعوت الی اللہ کی دھن سوار رہتی تھی جس کی خاطر آپ کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے تھے۔ایک دفعہ اوس قبیلہ کے لوگ خزرج کے خلاف مدد مانگنے قریش مکہ کے پاس آئے۔رسول اللہ نے اس وفد کے پاس جا کر انہیں بھی پیغام حق پہنچایا۔یہ نو جوان قبیلہ اوس کی شاخ عبدالا شہل سے تعلق رکھتے تھے جو اپنے سردارا ابوالجلیس کی سرکردگی میں مکہ آئے۔ان کا مقصد قریش سے خزرج کے خلاف مدد کے لئے معاہدہ کرنا تھا۔رسول اللہ نے اُن کی مجلس میں تشریف لے جا کر فرمایا کہ جس مقصد کے لئے تم آئے ہو کیا میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ بتاؤں؟۔انہوں نے کہا وہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا ” میں اللہ کا رسول ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے بندوں کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے تا وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔اس نے مجھ پر کتاب بھی نازل فرمائی ہے۔پھر آپ نے اسلامی تعلیم کا ذکر کیا اور انہیں قرآن شریف سنایا۔میسن کر ایک نو عمر نوجوان ایاس بن معاذ کہنے لگا "اے میری قوم! تم جس مقصد کے لئے آئے ہو یہ پیغام اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔“ اس پر ان کے سردار ابو لیس نے کنکروں کی ایک مٹھی بھر کر ایاس کے منہ پر دے ماری اور وہ مدینہ واپس لوٹ گئے جس کے بعد اوس و خزرج میں بعاث کی جنگ ہوئی۔(بیہقی ) 42 تبلیغ ميثرب حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم مسلسل دس سال تک مکہ میں حج کے موقع پر حاجیوں کے خیموں میں جا کر تبلیغ کرتے رہے۔اسی طرح آپ مجنہ اور عکاظ کے میلوں میں اور منی میں حاجیوں کے خیموں میں تشریف لے جا کر فرماتے تھے کہ کون ہے جو میری مدد کرنے اور پناہ دینے کی حامی بھرتا ہے کہ جہاں جا کر میں اپنے رب کا پیغام پہنچا سکوں؟ ایسے شخص کو میں جنت کی بشارت دیتا ہوں۔کوئی بھی آپ کی مدد نصرت کے لئے تیار نہ ہوتا تھا۔لوگ بیمن اور دوسرے علاقوں سے جب سفر حج پر آتے تو اپنی قوم کو یہ نصیحت کرتے کہ قریش کے اس نوجوان سے ہوشیار رہنا وہ تمہیں گمراہ نہ کر دے۔نبی کریم حاجیوں کے خیموں میں جاکر اللہ کی طرف بلاتے تھے۔لوگ انگلیوں سے آپ کی طرف اشارے کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انصار مدینہ کو میٹر ب سے بھیجا۔آپ کے پاس ایک ایک آدمی آکر ایمان لاتا اور قرآن سیکھتا تھا اور اپنے اہل خانہ کی طرف واپس میٹر ب جاتا تو وہ بھی اسلام قبول کر لیتے یہاں تک کہ مدینے کا کوئی محلہ باقی نہ رہا جہاں مسلمانوں کا ایک گروہ پیدا نہ ہو گیا جس سے اسلام کو طاقت اور قوت ملی۔پھر ستر افراد کا ایک وفد مکہ گیا اور حج کے موقع پر شعب ابی طالب میں انہوں نے بیعت کی۔(احمد )43