اسوہء انسانِ کامل — Page 262
262 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ اسوہ انسان کامل عد اس سے اس کے مالکوں نے سرزنش کی اور پوچھا کہ تم نے جھک کر محمد کا ادب کیوں کیا تو اس نے کہا آج روئے زمین پر اس شخص سے بہتر کوئی نہیں ہے۔اس نے مجھے ایسی بات بتائی ہے جو سوائے نبی کے کوئی نہیں بتا سکتا۔(ابن ہشام )39 الغرض طائف کا دن ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر انتہائی سخت دن تھا۔حضرت عائشہ نے ایک دفعہ نبی کریم سے پوچھا کہ اُحد کے دن (جس میں آپ کے دانت شہید ہوئے اور چہرے پر بھی زخم آئے ) سے زیادہ کوئی سخت دن بھی آپ پر آیا ہے۔آپ نے فرمایا عائشہ ؟ میں نے تمہاری قوم سے بہت تکالیف اٹھا ئیں مگر سب سے شدید تکلیف وہ تھی جو عقبہ کے دن (سفر طائف میں ) اٹھائی۔اس روز میں نے بنی عبد کلال (سرداران طائف) کے سامنے اپنے آپ کو پیش کیا کہ وہ مجھے اپنی پناہ میں لے کر پیغام حق پہنچانے دیں مگر انہوں نے میری بات نہیں مانی۔تب میں وہاں سے چل پڑا۔اس وقت میں سخت مغموم ہونے کی حالت میں سر جھکائے چلا جاتا تھا۔قرن الثعالب پہنچ کر کچھ افاقہ میں نے محسوس کیا اور خدائی مدد کیلئے آسمان کی طرف نظر اٹھائی۔کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بادل نے مجھے سایہ میں لے رکھا ہے۔پھر جبریل اس میں نظر آئے۔انہوں نے مجھے بلا کر کہا اللہ تعالیٰ نے تیری قوم کا سلوک دیکھا ہے جو انہوں نے آپ سے روا رکھا ہے۔اس نے آپ کی طرف پہاڑوں کے فرشتہ کو بھجوایا ہے تا کہ آپ جو چاہیں اسے حکم دیں۔تب پہاڑوں کے فرشتہ نے مجھے ندادی۔مجھے سلام کر کے کہا اللہ نے آپ کی قوم کا جواب سن لیا ہے۔میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں۔مجھے آپ کے رب نے آپ کی طرف بھیجا ہے تا کہ آپ جو حکم دیں میں بجالاؤں اے محمد ! آپ کیا چاہتے ہیں؟ اگر آپ چاہیں تو میں (اس وادی کے ) یہ دونوں پہاڑ ان پر گرا دوں۔نبی کریم نے فرمایا ”نہیں ایسا نہ کرو۔مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو خدائے واحد کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔( بخاری ) 40 ولیم میور کی شہادت مستشرق سرولیم میور جیسا معاند اسلام بھی رسول اللہ کے اس تبلیغی سفر سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔وہ لکھتا ہے:۔"There is something lofty and heroic in this journey of Mohomet to Tayif; a solitary man, despised and rejected by his own people, going boldly forth in the name of God, Like Jonah to Nineveh, and summoning an idolatrous city to repent and to support his mission۔It sheds a strong light on the intensity of his belief in the divine origin of his calling۔" "محمد کے طائف کے سفر میں عظمت اور شجاعت کا رنگ نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ایک تنہا شخص جس کی قوم نے اسے حقارت کی نظر سے دیکھا اور رڈ کر دیا، وہ خدا کی راہ میں دلیری کے ساتھ اپنے شہر سے نکلتا ہے اور جس طرح یونس بن متی نینوا کو گیا اسی طرح وہ ایک بت پرست شہر میں جا کر ان کو توحید کی طرف بلاتا اور تو بہ کا وعظ کرتا ہے۔اس واقعہ سے یقیناً