اسوہء انسانِ کامل — Page 245
245 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ اسوہ انسان کامل الٹی کی تعمیل نہ کی تو آپ کا رب آپ پر بھی گرفت کرے گا۔تب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے فرمایا کہ ایک دعوت طعام کا انتظام کریں جس میں بکری کے پائے کا شور بہ روٹی کے ساتھ پیش کیا جائے اور خاندان بنی مطلب کے تمام افراد بلائے جائیں تا کہ انہیں پیغام حق پہنچایا جائے۔حضرت علی نے حسب ارشاد یہ انتظام کیا اور خاندان کے کم و بیش چالیس افراد کو دعوت دی جن میں آپ کے سارے چچا ابوطالب، حمزہ، عباس اور ابولہب بھی شامل تھے۔حضور نے خود سالن ایک کشادہ برتن میں ڈال کر فرمایا اللہ کا نام لے کر کھائیں۔اللہ تعالیٰ نے کھانے میں خوب برکت ڈالی اور سب نے سیر ہو کر کھایا۔پھر دودھ پیش کیا گیا اور اس میں بھی اتنی برکت پڑی کہ سب نے سیر ہو کر پیا۔جب رسول کریم بات شروع کرنے لگے تو آپ کا چا ابولہب پہلے بول پڑا اور کہنے لگا تمہارے ساتھی نے تم پر جادو کر دیا ہے۔اس پر لوگ منتشر ہو گئے۔رسول کریم اس روز اپنا پیغام پہنچانہ سکے۔آپ نے حضرت علی سے فرمایا کہ اس دفعہ تو یہ شخص ( ابو لہب ) بات کرنے میں مجھ سے پہل کر گیا ہے۔اب دوبارہ ایک دعوت طعام کا انتظام کرو جس میں چیدہ چیدہ چالیس افراد خاندان ہوں۔حضرت علی کہتے ہیں میں نے دوبارہ دعوت کا انتظام کیا۔جب سب نے کھانا کھالیا تو رسول کریم نے خطاب میں فرمایا اے عبدالمطلب کی اولاد! خدا کی قسم ! کوئی عرب نوجوان اپنی قوم کے لئے اس سے اعلیٰ اور شاندار پیغام نہیں لایا جو میں تمہارے پاس لایا ہوں۔میں تمہارے پاس دنیا و آخرت کی بھلائی لے کر آیا ہوں۔مجھے میرے رب نے حکم دیا ہے کہ تمہیں اس کی طرف بلاؤں۔پس تم میں سے کون اس معاملہ میں میرا مددگار ہوگا اور دینی اخوت کا رشتہ میرے ساتھ جوڑے گا ؟ سب خاموش تھے۔ایک کم سن حضرت علیؓ اٹھے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے نبیؐ میں حاضر ہوں۔مگر باقی لوگ ہنستے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور چلے گئے۔(طبری) 9 دعوت عام کے حکم کے باوجود مشرکوں سے اعراض کے حکم میں بھی ایک گہری حکمت تھی۔مقصد یہ تھا کہ جولوگ شرک پر مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں ابتداء انہیں نظر انداز کرنا قرین مصلحت ہے۔دوسری حکمت یہ بھی ہوگی کہ مخالفت کالا وا یکلخت نہ پھوٹے۔تیسرے اس ارشاد میں یہ پیغام بھی مخفی تھا کہ جن نیک طبائع کو پہلے ہی تو حید کی طرف میلان اور شرک سے نفرت ہے پہلے ان سے رابطے کئے جائیں۔اسلام کا پہلا دار التبلیغ دارارقم حضرت ارقم بن ارقم نے گیارہویں نمبر پر اسلام قبول کیا۔ان کا مکان مکہ میں صفا کی پہاڑی پر تھا۔مکہ میں آغاز اسلام میں مسلمانوں کیلئے کسی مرکزی ٹھکانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔حضرت ارقم نے اپنا یہ گھر پیش کر دیا جسے مسلمانوں کا پہلا مرکز بنے کی سعادت ملی۔یہاں نبی کریم ایک عرصہ تک قریش سے مخفی طور پر لوگوں کو اسلام کی طرف بلاتے رہے یہاں تک کہ مسلمانوں کی تعداد چالیس ہو گئی۔حضرت عمر نے بھی اسلام قبول کر لیا تو اعلامیہ تبلیغ اور عبادت کا سلسلہ شروع ہوا۔(ابن ہشام ) 10