اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 246 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 246

246 اسوہ انسان کامل رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ جب عام لوگوں کو دعوت حق دینی شروع کی گئی تو کچھ نو عمر اور کمزور لوگ اس پیغام کو قبول کرنے لگے اور یہ تعدا درفتہ رفتہ بڑھنے لگی۔ابتدائی تبلیغ میں مثبت پیغام حق کی حکمت عملی کے پیش نظر اقرار توحید اور اللہ کی عبادت کے ساتھ رشتہ داروں سے حسن سلوک کی تعلیم کی طرف بلایا جاتا تھا۔اس لئے اس پر عام قریش کی طرف سے کوئی خاص مزاحمت نہ ہوتی تھی اور متحدہ مخالفت کا ابھی آغاز نہیں ہوا تھا۔البتہ جب نبی کریم قریش کی مجالس کے پاس سے گزرتے تو وہ آپ کی طرف اشارہ کر کے کہتے کہ عبد المطلب کے اس بیٹے پر آسمان سے کلام آتا ہے۔اس کے بعد وہ دور شروع ہوا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کی تبلیغ کے ساتھ بت پرستی سے منع فرمایا اور جن معبودوں کی وہ پرستش کرتے تھے، ان کے نقائص اور عیوب کھول کر بیان کرنے شروع کئے تو مشرکین نے رسول اللہ کی مخالفت شروع کر دی۔اس مخالفت کی دوسری بڑی وجہ سرداروں کو اپنی ریاست کا خطرہ اور قبائل قریش کی باہمی رقابت بھی تھی۔چنانچہ مکہ کے دانشور ابو جہل نے رسول اللہ کے دعوی کو حق جاننے کے باوجود صرف اس لئے قبول نہ کیا کہ اس طرح بنو ہاشم بنو امیہ سے سبقت لے جائیں گے۔سردار مکہ ابو جہل کو دعوت قریبی رشتہ داروں کو دعوت اسلام کے ساتھ ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فَاصْدَعُ بِمَا تُؤْمَرُ کے حکم کے تابع تبلیغ عام بھی شروع فرمائی۔الہی احکامات کے نتیجہ میں آپ کا دل بہت مضبوط تھا اور بڑی دلیری اور بہادری سے آپ نے یہ فریضہ انجام دیا اور بڑے بڑے سرداروں پر بھی اتمام حجت کر کے چھوڑا۔ابو جہل کو انفرادی طور پر بھی تبلیغ کی کوشش کی۔حضرت مغیرہ بن شعبہ بیان کرتے ہیں کہ میری پہلی ملاقات رسول اللہ سے اس دن ہوئی جب میں ابوجہل کے ساتھ مکہ کی ایک گلی میں آرہا تھا کہ ہمارا سامنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو گیا۔رسول اللہ نے ابو جہل سے کہا اے ابوالحکم! اللہ اور اس کے رسول کی طرف آجاؤ۔میں تمہیں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔“ ابو جہل کہنے لگا ”اے محمد! کیا تو ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے باز آئے گایا نہیں ؟ اگر تو تم یہ چاہتے ہو کہ ہم گواہی دے دیں کہ تو نے پیغام ہم تک پہنچا دیا ہے تو ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ تو نے پیغام پہنچا دیا۔ورنہ خدا کی قسم ! اگر مجھے پتہ چل جائے کہ جو دعویٰ تم کرتے ہو وہ برحق ہے تو پھر بھی میں تمہاری پیروی ہرگز نہ کروں گا۔یہ سن کر رسول اللہ تو تشریف لے گئے۔پھر ابو جہل مغیرہ کو مخاطب ہو کر کہنے لگا۔خدا کی قسم ! میں جانتا ہوں کہ یہ اپنی بات میں سچا ہے لیکن اس کے جد امجد قصی کی اولاد نے کہا کہ خانہ کعبہ کے غلاف کا انتظام ہمارے پاس ہے تو ہم نے تسلیم کر کیا۔پھر انہوں نے کہا کہ ندوہ ( جرگہ ) یعنی مجلس شوریٰ کے انتظام پر بھی ہمارا اختیار ہے تو ہم کچھ بول نہ سکے۔پھر انہوں نے ہمارے مد مقابل یہ دعویٰ کیا کہ عرب کے جھنڈے کے بھی ہم علمبردار ہیں تو ہمیں تسلیم کرنا پڑا، انہوں نے کہا کہ حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمات ہمارے سپرد ہیں تو ہم چپ ہو گئے۔پھر مقابلہ آگے بڑھا تو کھلانے پلانے اور سخاوت کے میدان میں ہم نے خوب ان کا مقابلہ کیا یہاں