اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 227 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 227

227 آنحضرت کی صحابہ سے محبت اور صحابہ کا عشق رسول اسوہ انسان کامل کے نتیجہ میں آنحضور کے خود کی دونوں کڑیاں ٹوٹ کر جب آپ کے رخساروں میں پھنس گئیں تو میں رسول کریم کی مدد کے لئے آپ کی طرف لپکا۔میں نے دیکھا کہ سامنے کی طرف سے بھی ایک شخص دوڑا چلا آرہا ہے۔میں نے دل میں دعا کی کہ خدا کرے اس نازک وقت میں یہ شخص میری مدد اور نصرت کا موجب ہو۔دیکھا تو وہ ابوعبیدہ تھے جو مجھ سے پہلے حضور تک پہنچ چکے تھے۔انہوں نے صورتحال کا جائزہ لے کر کمال فدائیت کے جذبہ سے مجھے خدا کا واسطہ دیکر کہا کہ حضور کے رخساروں سے یہ لوہے کی شکستہ کڑیاں مجھے نکالنے دیں۔پھر انہوں نے پہلے ایک کڑی کو دانتوں سے پکڑا اور پوری قوت سے کھینچا تو با ہر نکل آئی ، مگر ابو عبیدہ خود پیٹھ کے بل پیچھے جا گرے ساتھ ہی اُن کا اگلا دانت بھی باہر آرہا۔پھر انہوں نے دوسرے رخسار سے لوہے کی کڑی اسی طرح پوری ہمت سے پینچی تو اس کے نکلنے کے ساتھ آپ کا دوسرا دانت بھی ٹوٹ گیا اور آپ دوبارہ پیچھے جا گرے۔مگر آنحضرت کو ایک سخت اذیت سے نجات دینے میں کامیاب ہوئے اور آپ کی خدمت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں ہونے دیا۔(ابن سعد )16 رسول اللہ کے ایک اور عاشق صادق حضرت جعفر تھے۔ایک موقع پر حضرت محمد سکے بہت ہی پیاروں حضرت زید، حضرت علی اور حضرت جعفر کے مابین یہ سوال اُٹھ کھڑا ہوا کہ حضور کو زیادہ پیار کس سے ہے؟ حضور سے پوچھا گیا تو آپ نے انتہائی کمال شفقت سے سب پیاروں سے کمال دلداری فرمائی کہ سب ہی آپ کو محبوب تھے۔حضرت جعفر سے فرمایا اے جعفر تو تو خلق وخلق اور صورت و سیرت میں میرے سب سے زیادہ مشابہ اور قریب ہے۔‘ ( احمد ) 17 رسول اللہ کا یہ اظہار محبت سن کر بے محابا حضرت جعفر" پر پیار آتا ہے۔حضرت جعفر نے غزوہ موتہ میں جام شہادت نوش فرمایا۔آپ کی بیوی اسماء کا بیان ہے کہ حضور اس موقع پر ہمارے گھر تشریف لے گئے اور فرمایا جعفر کے بچوں کو میرے پاس لاؤ ان کو گلے لگایا، پیار کیا، آپ کی آنکھوں سے آنسو امڈ آئے۔میں نے عرض کیا ”میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ کیوں روتے ہیں؟ کیا جعفر کے بارہ میں کوئی خبر ہے؟ فرمایا ”ہاں وہ راہ مولیٰ میں شہید ہو گئے ہیں۔‘اب شہید راہ حق حضرت جعفر رسول اللہ کو اور زیادہ محبوب ہو گئے تھے۔آپ نے اپنے اہل خانہ کو ہدایت فرمائی کہ جعفر کے گھر والوں کا خیال رکھیں۔انہیں کھانا وغیرہ بھجوائیں۔‘ (احمد) 18 بعض صحابہ سے عشق رسول کے ایسے مناظر بھی دیکھے گئے کہ دوسرے صحابہ کو ان پر رشک آتا تھا۔حضرت عبداللہ بن مسعوددؓ فرماتے تھے کہ میں نے بدر کے موقع پر مقداد بن الاسودؓ سے ایک ایسا نظارہ دیکھا کہ (میرا دل کرتا ہے کہ ) کاش ان کی جگہ میں ہوتا اور یہ سعادت مجھے حاصل ہوتی تو دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب لگتی اور وہ یہ کہ رسول کریم ﷺ بدر کے موقع پر مشرکوں کے خلاف مسلمانوں کو تحر یک جنگ فرمارہے تھے تو مقداد نے کہا یا رسول اللہ ! ہم قوم موسیٰ کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ تم اور تمہارا رب جا کرلڑ و بلکہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی ، آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی۔اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں آپ کی جان ہے اگر آپ سواریوں کو برک الغماد ( کے انتہائی ) مقام تک