اسوہء انسانِ کامل — Page 228
اسوہ انسان کامل 228 آنحضرت کی صحابہ سے محبت اور صحابہ کا عشق رسول بھی لے جائیں تو ہم آپ کی پیروی کریں گے۔( بخاری )19 حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ مقداد کی تقریرین کر رسول اللہ کا چہرہ کھل کر چمک اٹھا اور اس بات نے حضور کو بہت خوش کیا۔حضرت ابو طلحہ بھی ان خوش نصیب صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے رسول اللہ کی محبت سے حصہ پایا۔رسول اللہ بے تکلفی سے ان کے گھر اور کبھی باغ میں بھی تشریف لے جاتے۔ان کے بچوں سے محبت کا سلوک فرماتے۔حضرت ابوطلحہ نے رسول اللہ کے تبرکات کچھ بال اور ایک پیالہ بڑی محبت سے سنبھال کر رکھے ہوئے تھے۔آپ کو رسول اللہ سے والہانہ عشق تھا۔( ابن سعد ) 20 غزوہ اُحد میں جب کفار نے دوبارہ حملہ کیا تو جن صحابہ نے رسول اللہ کو اپنے حصار میں لے کر جان کی بازی لگا کر آپ کی حفاظت کی ہے، ان میں ابوطلحہ کا نمایاں مقام ہے۔وہ رسول اللہ کے سامنے سینہ سپر ہو گئے۔رسول اللہ آپ کو تیر پکڑاتے اور سراٹھا کر دیکھنا چاہتے کہ کہاں پڑا ہے۔ابوطلحہ عرض کرتے۔”یا رسول اللہ آپ سر اٹھا کر نہ جھانکیے کہیں آپ کو کوئی تیر نہ لگ جائے میرا سینہ آپ کے سینہ کے آگے سپر ہے۔( بخاری ) 21 رسول اللہ کے ایک اور عاشق صادق حضرت مصعب بن عمیر تھے۔جو ایک امیر کبیر گھرانے کے فرد تھے مگر انہوں نے قبول اسلام کے بعد شہزادگی چھوڑ کر درویشی اختیار کر لی تھی۔ایک دن رسول اللہ نے دیکھا مصعب بن عمیر اس حال زار میں آپ کی مجلس میں آئے ہیں کہ پیوند شدہ کپڑوں میں ٹاکیاں بھی چمڑے کی لگی ہیں۔صحابہ نے دیکھا تو سر جھکا لئے کیونکہ وہ بھی مصعب کی کوئی مدد کرنے سے معذور تھے۔مصعب نے آکر سلام کیا۔آنحضرت نے دلی محبت سے وعلیکم السلام کہا اور اس صاحب ثروت نو جو ان کی آسائش کا زمانہ یا د کر کے آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔پھر مصعب کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا۔الحمد للہ دنیا داروں کو ان کی دنیا نصیب ہو۔میں نے مصعب کو اس زمانے میں بھی دیکھا ہے جب شہر مکہ میں ان سے بڑھ کر صاحب ثروت و نعمت کوئی نہ تھا مگر خدا اور اس کے رسول کی محبت نے اسے آج اس حال تک پہنچایا ہے۔(ابن سعد ) 22 اسلام کے پہلے مبلغ مصعب ہجرت مدینہ کے بعد رسول اللہ سے ملنے مکہ آئے تو ان کی محبت رسول کا ایک عجب نمونہ دیکھنے میں آیا۔آپ مکہ پہنچتے ہی اپنی والدہ (جو اب اسلام کی مخالفت چھوڑ چکی تھیں) کے گھر جانے کی بجائے سیدھے نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچے۔حضور کی خدمت میں وہاں کے حالات عرض کئے۔مدینہ میں سرعت کے ساتھ اسلام پھیلنے کی تفصیلی رپورٹ دی۔حضور ان کی خوشکن مساعی کی تفاصیل سن کر بہت خوش ہوئے۔ادھر مصعب کی والدہ کو پتہ چلا کہ مصعب مکہ آئے ہیں اور پہلے ان کے پاس آکر ملنے کے بجائے رسول اللہ کے ہاں چلے گئے ہیں۔انہوں نے بیٹے کو پیغام بھیجا کہ او بے وفا ! تو میرے شہر میں آکر پہلے مجھے نہیں ملا۔عاشق رسول